Categories: مشرق وسطی

یمن: القاعدہ کے حملے میں چودہ فوجی ہلاک

یمن کے فوجی اور میڈیکل حکام نے بتایا ہے کہ جنوبی یمن کے فوجی ٹھکانے پر شدت پسندوں کے حملے میں چودہ فوجی افسر کے ساتھ بارہ القاعدہ شدت پسند بھی ہلاک ہو ئے ہیں۔
فوجی حکام کے مطابق یہ حملہ ابیان صوبے میں شقرا سے آٹھ کیلو میٹر مشرق میں صبح کے وقت ہوا جب شدت پسندوں نے فوجی اڈے کے قریب دھماکہ خیز مواد سے بھری گاڑی کو اڑا دیا۔
اس کے بعد شدت پسندوں کی دوسری جماعت نے ساحل سمندر کی جانب سے فوجی ٹھکانے پر حملہ کر دیا جس کے نتیجے میں خوفناک جنگ چھڑ گئی۔
واضح رہے کہ جمعرات کو امریکی ڈرون حملے میں سات مشتبہ القاعدہ رکن ہلاک ہو گئے تھے۔
حکام نے ایک امریکی اخبار کو بتایا کہ مرنے والوں چودہ فوجیوں میں ایک سو پندرہ بریگیڈ کے کرنل صالح الذمہ اور دو ديگر کرنل شامل ہیں۔
سکیورٹی حکام کا کہنا ہے کہ شدت پسند جار شہر کے باہر کھیتوں میں اجلاس کر رہے تھے۔ مقامی باشندوں کا کہنا ہے کہ انھوں نے کئی دھماکوں کی آوازیں سنی ہیں۔
اس سے قبل وزیر دفاع جنرل محمد ناصر احمد نے جار کا دورہ کیا تھا اور القاعدہ کے خاتمے کا عہد کیا تھا۔
جون کے مہینے میں ایک فوجی آپریشن میں خطہ عرب کی القاعدہ جماعت کو جنوبی یمن میں ہزیمت اٹھانی پڑی تھی جسے انھوں نے گزشتہ سال کی بغاوت کے دوران اپنے قبضے میں لے لیا تھا۔ اس کے بعد سے شدت پسندوں نے خوفناک بمباری اور قتل کے ذریعے اس کا جواب دینے کا سلسلہ جاری رکھا ہے۔
جمعہ کو جس ملٹری بیس پر حملہ ہوا ہے اس میں فوج کے ایک سو پندرہویں بٹالین رہتی ہے اور یہ ابیان میں دوہزار گیارہ سے تعینات ہے۔
پہلے حملہ آور دستوں میں سے کم سے کم چار لوگوں نے دھماکہ خیز بلٹ پہن رکھا تھی اور وہ گاڑی چلاتے ہوئے کئی چیک پوسٹوں سے گزرے تھے۔
حکام نے بتایا کہ وہ اس لیے ان چیک پوسٹوں سے گزرنے میں کامیاب ہو گئے کہ انھوں نے فوجی وردیاں پہن رکھی تھیں۔ان کے ٹرک پر بھی ملٹری کی نمبر پلیم موجود تھی۔
انھوں نےمزید کہا کہ جیسے ہی وہ ملٹری کیمپ کے نزدیک پہنچے انھوں نے محافظوں پر گولیاں برسانی شروع کردیں جن میں دو گارڈ کی موت واقع ہو گئی۔
اس کے بعد تین شدت پسند ٹرک سے کود پڑے اور ان فوجیوں پر گولیاں برسانی شروع کر دیں جوگولیوں کی آواز سے جاگ اٹھے تھے۔
چوتھا شدت پسند دھماکہ خیز مواد سے بھری گاڑی کو چلاتا رہا اور فوجیوں کے ایک گروہ سے ٹکرا کر اسے دھماکے سے اڑا دیا۔
دوسرے فوجی بالآخر باقی تین شدت پسندوں کو مارنے میں کامیاب ہو گئے۔
اس کے بعد شدت پسندوں کی ایک جماعت نے ساحل کی جانب سے حملہ کر دیا لیکن انھیں پسپا کر دیا گیا۔
بی بی سی اردو

modiryat urdu

Recent Posts

اسلامی ممالک کا ایک دوسرے کے سامنے صف آرا ہونے میں کوئی خیر یا فائدہ نہیں

شیخ الاسلام مولانا عبدالحمید نے 31 جولائی 2026ء کے خطبہ جمعہ میں مشرقِ وسطیٰ میں…

2 hours ago

“عدل و انصاف کی ترویج”، “متحرک معیشت”، اور “عوام کی رضامندی” حکومتوں کی بقا کا راستہ ہیں

"عدل و انصاف کی ترویج"، "متحرک معیشت"، اور "عوام کی رضامندی" حکومتوں کی بقا کا…

1 week ago

حقوق اللہ اور حقوق الناس کی پامالی تقویٰ اور اعتدال کے راستے سے نکلنے کے مترادف ہے

زاہدان میں 17 جولائی 2026 کو نماز جمعہ کے اجتماعات کے دوران شیخ الاسلام مولانا…

2 weeks ago

“مذاکرات اور بات چیت” ملک کو بچانے کا بہترین طریقہ ہے

"مذاکرات اور بات چیت" ملک کو بچانے کا بہترین طریقہ ہے

3 weeks ago

غزہ میں اسرائیلی حملے جاری، 9 سالہ بچی سمیت کم از کم 6 فلسطینی شہید

غزہ میں جنگ بندی کے باوجود اسرائیلی حملوں کا سلسلہ جاری ہے۔

3 weeks ago

اللہ تعالیٰ اور رسول اللہ ﷺ کی اطاعت سب سے بڑا جہاد ہے

شیخ الاسلام مولانا عبدالحمید نے زاہدان میں نماز جمعہ تین جولائی 2026ء کے خطبے کے…

4 weeks ago