فوجی حکام کے مطابق یہ حملہ ابیان صوبے میں شقرا سے آٹھ کیلو میٹر مشرق میں صبح کے وقت ہوا جب شدت پسندوں نے فوجی اڈے کے قریب دھماکہ خیز مواد سے بھری گاڑی کو اڑا دیا۔
اس کے بعد شدت پسندوں کی دوسری جماعت نے ساحل سمندر کی جانب سے فوجی ٹھکانے پر حملہ کر دیا جس کے نتیجے میں خوفناک جنگ چھڑ گئی۔
واضح رہے کہ جمعرات کو امریکی ڈرون حملے میں سات مشتبہ القاعدہ رکن ہلاک ہو گئے تھے۔
حکام نے ایک امریکی اخبار کو بتایا کہ مرنے والوں چودہ فوجیوں میں ایک سو پندرہ بریگیڈ کے کرنل صالح الذمہ اور دو ديگر کرنل شامل ہیں۔
سکیورٹی حکام کا کہنا ہے کہ شدت پسند جار شہر کے باہر کھیتوں میں اجلاس کر رہے تھے۔ مقامی باشندوں کا کہنا ہے کہ انھوں نے کئی دھماکوں کی آوازیں سنی ہیں۔
اس سے قبل وزیر دفاع جنرل محمد ناصر احمد نے جار کا دورہ کیا تھا اور القاعدہ کے خاتمے کا عہد کیا تھا۔
جون کے مہینے میں ایک فوجی آپریشن میں خطہ عرب کی القاعدہ جماعت کو جنوبی یمن میں ہزیمت اٹھانی پڑی تھی جسے انھوں نے گزشتہ سال کی بغاوت کے دوران اپنے قبضے میں لے لیا تھا۔ اس کے بعد سے شدت پسندوں نے خوفناک بمباری اور قتل کے ذریعے اس کا جواب دینے کا سلسلہ جاری رکھا ہے۔
جمعہ کو جس ملٹری بیس پر حملہ ہوا ہے اس میں فوج کے ایک سو پندرہویں بٹالین رہتی ہے اور یہ ابیان میں دوہزار گیارہ سے تعینات ہے۔
پہلے حملہ آور دستوں میں سے کم سے کم چار لوگوں نے دھماکہ خیز بلٹ پہن رکھا تھی اور وہ گاڑی چلاتے ہوئے کئی چیک پوسٹوں سے گزرے تھے۔
حکام نے بتایا کہ وہ اس لیے ان چیک پوسٹوں سے گزرنے میں کامیاب ہو گئے کہ انھوں نے فوجی وردیاں پہن رکھی تھیں۔ان کے ٹرک پر بھی ملٹری کی نمبر پلیم موجود تھی۔
انھوں نےمزید کہا کہ جیسے ہی وہ ملٹری کیمپ کے نزدیک پہنچے انھوں نے محافظوں پر گولیاں برسانی شروع کردیں جن میں دو گارڈ کی موت واقع ہو گئی۔
اس کے بعد تین شدت پسند ٹرک سے کود پڑے اور ان فوجیوں پر گولیاں برسانی شروع کر دیں جوگولیوں کی آواز سے جاگ اٹھے تھے۔
چوتھا شدت پسند دھماکہ خیز مواد سے بھری گاڑی کو چلاتا رہا اور فوجیوں کے ایک گروہ سے ٹکرا کر اسے دھماکے سے اڑا دیا۔
دوسرے فوجی بالآخر باقی تین شدت پسندوں کو مارنے میں کامیاب ہو گئے۔
اس کے بعد شدت پسندوں کی ایک جماعت نے ساحل کی جانب سے حملہ کر دیا لیکن انھیں پسپا کر دیا گیا۔
بی بی سی اردو
ایرانی عوام شدید ترین مہنگائی کا سامنا کر رہے ہیں؛ حکومت، پارلیمان اور نظامِ حاکمیت…
خراسان کے اہلِ سنت کا بارہواں فقہی مشاورتی اجلاس جمعرات کی صبح، 22 اکتوبر 2026ء…
ترکیہ اور آذربائیجان کے درمیان دیرینہ دوستانہ تعلقات میں تناؤ بڑھنے لگا ہے۔
فرانس کے وزیرِاعظم سیباستیان لیکورنو نے پیر کے روز مختلف علاقوں میں محدود پیمانے پر…
فیلڈ مارشل سید عاصم منیر اہم دورے پر ایرانی دارالحکومت تہران پہنچ گئے۔
جمہوریہ آذربائیجان کے اسکولوں میں حجاب پر پابندی جمہوریت کے اصولوں کے خلاف ہے؛ صدرِ…