جامع مسجد مکی زاہدان میں بیان کرتے ہوئے مولانا عبدالحمید نے مزیدکہا: ہر ملک کا معاشی استحکام اس کی کرنسی کی قدر پر منحصر ہے۔ ہمارے ملک کی کرنسی کو شدید دھچکا لگ گیاہے۔ عالمی سطح پر عوام ایک بڑی معاشی مصیبت سے دوچار ہوچکے ہیں۔ حکام کو چارہ ڈھونڈنا چاہیے۔ ہمارے دو پڑوسی ممالک پاکستان اور افغانستان جو غریب ممالک ہیں کی معاشی حالت اور کرنسی کی قدر کافی حدتک بہتر ہے۔ کسی دور میں افغانستان میں لوگ بکرے خریدنے کیلیے پوری بوری کا پیسہ کندھے پر رکھتے لیکن اب وہاں صورتحال بہت بہتر ہوچکی ہے۔ لیکن ہمارا ملک جو معدنی ذخائر اور وسائل سے مالامال ہے سخت مشکلات سے دوچار ہے؛ لوگوں کی روزمرہ زندگی، کاروبار اور تجارت بنیادی مشکلات کے شکار ہیں۔
ممتازعالم دین نے مزیدکہا: ملک کی اکثریت متوسط طبقے پر مشتمل ہے جو معاشی بحران کی نئی لہرکی زد میں آکر سخت مشکلات کاشکار ہوچکی ہے۔ متوسط اور غریب طبقے کے لوگ موجودہ آمدنی سے گزارہ نہیں کرسکتے۔صوبہ سیستان وبلوچستان میں بے روزگاری ملک کے دیگر حصوں کی نسبت سے زیادہ ہے۔جب روزگاروالے شہریوں کاگزارہ نہیں ہوتا تو بے روزگار لوگ معروضی حالات میں کیسے جی سکتے ہیں؟
انہوں نے مزیدکہا: حکومتی سبسڈی اب بالکل ناکافی ہے جس سے عوام کا کوئی مسئلہ حل نہیں ہوسکتا۔ مہنگائی کے اس طوفان میں عوام کی قوت خرید انتہائی کمزور ہوچکی ہے۔ ایسے حالات میں حکام کو دن رات ایک کرکے کوئی مستقل حل نکالنا چاہیے۔
محکمہ تعلیم مقامی سنی اساتذہ کو متعین کرے
مہتمم دارالعلوم زاہدان نے اپنے بیان کے ایک حصے میں علم حاصل کرنے کی اہمیت واضح کرتے ہوئے کہا: ہر معاشرے کی ترقی کاراز علم اور سائنس پر منحصر ہے۔ اپنے بچوں کو تعلیم کے حصول کی ترغیب دیں؛ ان کی تعلیم پر خرچ کریں، انہیں تعلیم مکمل کرنے تک سپورٹ کریں۔ انہیں اعلی یونیورسٹیز میں ہائرایجوکیشن دلوائیں۔
انہوں نے مزیدکہا: انتہائی افسوس کی بات ہے کہ بستیوں اور دوردراز علاقوں میں بعض اساتذہ اور محکمہ تعلیم کے ذمہ داران سستی اور غفلت کا مظاہرہ کرتے ہیں۔ حالانکہ ان علاقوں کے رہائشی حصول علم کے بہت شوقین ہوتے ہیں۔ محکمہ تعلیم غفلت برتنے والے اساتذہ کو برطرف کرکے ان کی جگہ ایماندار اساتذہ متعین کردے۔
محکمہ تعلیم کے حکام کو مخاطب کرکے خطیب اہل سنت نے کہا: ہر علاقے کے اساتذہ کو ان کے آبائی علاقوں میں روزگار فراہم کرنا چاہیے، ایسے اساتذہ زیادہ شفقت و ایمانداری سے پڑھائیں گے۔ سوال یہ ہے کہ کس وجہ سے سنی اساتذہ کو ان کے علاقوں میں متعین نہیں کیاجاسکتا؟ محکمہ تعلیم کو اپنی پالیسیوں پر نظرثانی کرنی چاہیے۔ اس محکمہ میں سنی ماہرین کو شہروں اور صوبائی دارالحکومتوں میں روزگار فراہم کرنا چاہیے۔
اپنے بیان کے آخر میں ایران میں ’’ہفتہ پولیس‘‘ کی جانب اشارہ کرتے ہوئے مولانا عبدالحمید نے کہا: پولیس کا امن وامان قائم کرنے میں بڑا کردار ہے۔ عوام کی دعائیں ان کے ساتھ ہیں تاکہ وہ بہتر طورپر اپنے فرائض سرانجام دیں۔ پولیس کو دیکھ کر عوام میں سکون اور امن کا احساس پیدا ہونا چاہیے خوف اور گھبراہٹ کا نہیں۔ پولیس کا محکمہ ایک عوامی شعبہ ہے، اسے عوام کی خدمت میں رہنا چاہیے۔
شیخ الاسلام مولانا عبدالحمید نے جمعہ بیس فروری کو زاہدان کی نماز جمعہ کے اجتماع…
جنوری کے واقعات کا کوئی جواز نہیں؛ حکام جواز پیش کرنے کے بجائے عوام سے…
ایرانی عوام نے سن 1979ء میں “انصاف” اور “بہتر زندگی” کے حصول کے لیے انقلاب…
جنگ روکنے کا بہترین راستہ: ایرانی قوم کے مطالبات کو تسلیم کیا جائے
ایران میں حالیہ احتجاجات میں ہلاکتوں کی بڑی تعداد نے ایران کے عوام اور دنیا…
حالیہ احتجاجات میں عوام کے قتلِ عام کی مذمت اور شہداء کے خاندانوں سے ہمدردی…