حجاب سے متعلق بل پرسوئس پارلیمنٹ میں ہونے والی رائے شماری کے بعد منظور کی جانے والی قرارداد میں کہا گیا کہ مسلمان خواتین کے پبلک مقامات پر برقع اوڑھنے اور حجاب اوڑھنے پر کسی قسم کی پابندی عائد نہیں کی جا سکتی۔ قرارداد کی حمایت میں 93 جبکہ مخالفت میں 83 ووٹ آئے۔
خیال رہے کہ اس سال مارچ میں سوئس پارلیمنٹ کے سپریم چیمبر برائے حقوق نسواں نے مسلمان خواتین کے حجاب سے متعلق بل کو مسترد کردیا تھا۔
حجاب کی حمایت کرنے والے ایک رکن پارلیمنٹ ھیوگ ھیپٹولڈ نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے خواتین کے حجاب کی اس لیے حمایت کی ہے کیونکہ اس پر پابندی کی صورت میں ہمارے ملک میں مسلمان ملکوں سے سیاحوں کی آمد بری طرح متاثر ہو سکتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ اگر حکومت مسلمان خواتین کو روزمرہ کے لیے مخصوص لباس زیب تن کرنے کی پابند کرتی ہے تو یہ ان خواتین کے لیے مشکل کا باعث ہو گا۔ گو کہ سوئٹزر لینڈ میں مسلمان خواتین اپنی مرضی کا ہلکا پھلکا لباس بھی پہنتی ہیں لیکن ہم ان کی مرضی سلب نہیں کر سکتے کیونکہ ایک معاشرے میں مختلف لباس اختیار کرنے والے افراد موجود ہوتے ہیں۔
دوسری جانب ملک میں حجاب کی مخالفت کرنے والے اراکین اور حلقوں کا کہنا ہے کہ حجاب سے مرد وزن میں تفریق کا عنصر ظاہر ہوتا ہے۔ وہ فرد کی آزادی تو سلب نہیں کرنا چاہتے البتہ ان کا مقصد مرد وزن کے درمیان مساوات کا قیام ہے۔
شیخ الاسلام مولانا عبدالحمید نے جمعہ بیس فروری کو زاہدان کی نماز جمعہ کے اجتماع…
جنوری کے واقعات کا کوئی جواز نہیں؛ حکام جواز پیش کرنے کے بجائے عوام سے…
ایرانی عوام نے سن 1979ء میں “انصاف” اور “بہتر زندگی” کے حصول کے لیے انقلاب…
جنگ روکنے کا بہترین راستہ: ایرانی قوم کے مطالبات کو تسلیم کیا جائے
ایران میں حالیہ احتجاجات میں ہلاکتوں کی بڑی تعداد نے ایران کے عوام اور دنیا…
حالیہ احتجاجات میں عوام کے قتلِ عام کی مذمت اور شہداء کے خاندانوں سے ہمدردی…