ملعون سلمان رشدی کی اسلام کے خلاف تازہ ہرزہ سرائی

دبئی (العربیہ ڈاٹ نیٹ ) برطانیہ کے ٹوڈی مصنف شاتم رسول ملعون سلمان رشدی نے اسلام کے خلاف تازہ ہرزہ سرائی کی ہے اور اس نے جمعرات کو شائع ہونے والے اپنے ایک انٹرویو میں کہا ہے کہ اسلام کے قلب میں کچھ نہ کچھ غلط ہو رہا ہے۔

رشدی کا یہ انٹرویو فرانسیسی اخبار لی موندے نے ایک ایسے وقت میں شائع کیا ہے جب امریکا میں اسلام مخالف بنائی گئی فلم کے خلاف دنیا بھر میں مسلمانوں کے احتجاجی مظاہروں کا سلسلہ جاری ہے اور فرانس کے ایک اخلاق باختہ میگزین نے تمام اخلاقی حدودوقیود کو پامال کرتے ہوئے پیغمبر اسلام صلی اللہ وسلم کے اہانت آمیز خاکے شائع کردیے ہیں۔

مسٹر رشدی کا یہ انٹرویو شرانگیز فلم کے 11ستمبر کو اجراء سے ایک روز بعد 12 ستمبر کو کیا گیا تھا۔ملعون رشدی نے کہا کہ ”اس نے ایرانی انقلاب کے بانی آیت اللہ روح اللہ خمینی کے فتویٰ کے بعد جان بچانے کے لیے روپوشی کے برسوں میں مسلم دنیا میں راسخ العقیدہ نظریے کے فروغ پذیر ہونے پر اپنی توجہ مرکوز کی ہے”۔

سلمان رشدی نے فرانسیسی زبان میں شائع شدہ اس انٹرویو میں کہا کہ ”اسلام کے قلب میں کچھ غلط ہوگیا ہے۔یہ حال ہی کی بات ہے جب میں نوجوان تھا۔مسلم دنیا کے بہت سے شہر کاسموپولیٹن شہر ہوا کرتے تھے۔وہاں بہت زیادہ کلچر تھا”۔

اس ملعون مغرب نواز مصنف کا کہنا تھا کہ”ایک حد ایسی ہے کہ اس سے ماورا آپ مغرب کو الزام نہیں دے سکتے۔اگر اس بات کا معمولی سا بھی شائبہ ہوتا کہ مسلم معاشرہ ایک کھلی جمہوریت قائم کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے تو میں اپنی رائے تبدیل کرلیتا”۔

پینسٹھ سالہ اسلام مخالف سلمان رشدی نے اپنی شرانگیز متنازعہ تحریروں کی وجہ سے ماضی میں کروڑوں مسلمانوں کے دل دکھائے ہیں۔اس نے 1988ء میں ”شیطانی آیات” کے نام سے متنازعہ ناول لکھا تھا جس میں شامل توہین آمیز مواد کے خلاف دنیا بھر کے مسلمانوں نے احتجاجی مظاہرے کیے تھے۔ پاکستان اور بھارت سمیت متعدد مسلم ممالک میں اس شرانگیز کتاب پر پابندی عاید ہے۔

ایرانی انقلاب کے بانی مرحوم آیت اللہ روح اللہ خمینی نے اس ناول میں پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کی توہین پر1989ء میں شاتم رسول سلمان رشدی کے قتل کا فتویٰ جاری کیا تھا اور ایران نے ان کے انتقال کے بعد بھی اس فتویٰ کو واپس نہیں لیا تھا۔اس فتویٰ کے بعد سلمان رشدی جان بچانے کے لیے برطانیہ میں روپوش ہوگیا تھا اور وہ ایک عشرے تک منظرعام پر نہیں آیا تھا۔

سلمان رشدی کے ادبی مقام کے حوالے سے ناقدین کا کہنا ہے کہ وہ اوسط درجے کا لکھاری ہے اور وہ اسے بڑے ادیبوں میں کسی بھی حوالے سے شامل نہیں کرتے لیکن اس کے باوجود برطانوی ملکہ الزبتھ نے اسے کچھہ عرصہ قبل سر کے خطاب سے نوازا تھا اور مسلمانوں میں اشتعال پھیلانے اور اسلام کی توہین کے صلے میں اسے اور بھی متعدد مغربی ممالک اور اداروں کی جانب سے اعزازات دیے جاچکے ہیں۔

modiryat urdu

Recent Posts

کوئی بھی «جنگ» کی تمنا نہ کرے / جنگ کی روک تھام حکام کے ہاتھ میں ہے

شیخ الاسلام مولانا عبدالحمید نے جمعہ بیس فروری کو زاہدان کی نماز جمعہ کے اجتماع…

3 months ago

جنوری کے واقعات کا کوئی جواز نہیں؛ حکام جواز پیش کرنے کے بجائے عوام سے معافی مانگیں اور ان کے مطالبات تسلیم کریں

جنوری کے واقعات کا کوئی جواز نہیں؛ حکام جواز پیش کرنے کے بجائے عوام سے…

4 months ago

ایرانی عوام نے سن 1979ء میں “انصاف” اور “بہتر زندگی” کے حصول کے لیے انقلاب کیا

ایرانی عوام نے سن 1979ء میں “انصاف” اور “بہتر زندگی” کے حصول کے لیے انقلاب…

4 months ago

جنگ روکنے کا بہترین راستہ: ایرانی قوم کے مطالبات کو تسلیم کیا جائے

جنگ روکنے کا بہترین راستہ: ایرانی قوم کے مطالبات کو تسلیم کیا جائے

4 months ago

ایران میں حالیہ احتجاجات میں ہلاکتوں کی بڑی تعداد نے ایران کے عوام اور دنیا کو ’’حیرت زدہ اور مبہوت‘‘ کر دیا

ایران میں حالیہ احتجاجات میں ہلاکتوں کی بڑی تعداد نے ایران کے عوام اور دنیا…

4 months ago

حالیہ احتجاجات میں عوام کے قتلِ عام کی مذمت اور شہداء کے خاندانوں سے ہمدردی کا اظہار کرتے ہیں

حالیہ احتجاجات میں عوام کے قتلِ عام کی مذمت اور شہداء کے خاندانوں سے ہمدردی…

5 months ago