Categories: افغانستان

افغان پولیس کی تربیت عارضی طور پر معطل

امریکہ کا کہنا ہے وہ افغانستان میں پولیس کے نئے اہلکاروں کی تربیت معطل کر رہا ہے اور ان اہلکاروں کے مقامی طالبان سے ممکنہ تعلقات کے بارے میں بھی تحقیقات کی جا رہی ہیں۔

یہ فیصلہ گزشتہ کچھ مہینوں کے دوران افغان فوجیوں اور پولیس اہلکاروں کے ہاتھوں بین الاقوامی فوجیوں کی ہلاکت کے واقعات کے بعد کیاگیا ہے۔ تربیت کی معطلی کا فیصلہ صرف نئے بھرتی کیے جانے والے پولیس اہلکاروں پر لاگو ہوگا جبکہ امریکہ کی خصوصی آپریشن فورسز موجودہ افغان پولیس اہلکاروں کی بھی چھان بین کریں گی۔
اسی بارے میں

افغانستان میں امریکی فوج کے ترجمان کرنل تھامس کولین نے ایک بیان میں کہا ہے کہ ’ہمیں اپنے افغان ساتھیوں پر پورا اعمتاد اور بھروسہ ہے۔ ہم سمجھتے ہیں کہ چھان بین کے عمل کو قابلِ اعتماد بنانے اور افغان پولیس کی معیاری تربیت کے لیے ایسا کرنا ضروری ہے۔‘

کرنل کولین کے مطابق تربیت کے عمل کا معطل کیا جانا عارضی ہے۔

چھان بین کا یہ عمل آٹھ مراحل پر مشتمل ہوگا۔

افغان انٹیلیجنس کی ٹیموں میں اضافہ کر دیا جائے گا اور افغان فوجیوں کے چھٹیوں سے لوٹنے پر ان کی زیادہ چھان بین کی جائے گی۔

افغان فوج اور پولیس کی وردی کی عام بازاروں میں فروخت بھی غیرقانونی قرار دی جائے گی۔

حکام کے مطابق ماضی میں اہلکاروں کی چھان بین کے رہنماء اصولوں پر افغان سکیورٹی فورسز کی بھرتی میں سست روی کے خدشے کے پیشِ نظر عمل نہیں کیا جاتا تھا۔

امریکی کی سپیشل آپریشنز فورسز کے ترجمان لیفٹیننٹ کرنل جان ہیرل نے ایسو سی ایٹیڈ پریس کو بتایا کے پہلے سے تربیت یافتہ فورسز کے آپریشنز جاری رہیں گے اور نئے لوگوں کی بھرتیوں کا عمل بھی جاری رہے گا۔

افغان لوکل پولیس یعنی اے ایل پی کے موجودہ اہلکاروں کی تعداد سولہ ہزار تین سو اسی ہے۔

افغان فوج اور پولیس کے ان اہلکاروں کی تربیت معطل نہیں کی جائے گی جو اس سے پہلے نیٹو سے تربیت لے چکے ہیں۔ جبکہ افغان سپیشل فورسز کی تربیت بھی جاری رہے گی۔

ہر ماہ قریباً سات ہزار افغان فوجی اور تین ہزار سات سو افغان پولیس اہلکار تربیت مکمل کرتے ہیں۔

کابل میں بی بی سی کے نامہ نگار کے مطابق اے ایل پی ایک نئی متعارف کی گئی فورس ہے۔ اس کا مقصد ملک کے دورز دارز علاقوں میں سکیورٹی صورتحال کو بہتر بنانا ہے۔ تاہم اس فورس پر انسانی حقوق کی خلاف ورزی کے بھی الزامات ہیں۔

حال ہی میں ایک اے ایل پی کمانڈر نے قندوز صوبے میں عورتوں اور بچوں سمیت نو شہریوں کو ہلاک اور آٹھ کو زخمی کر دیا۔ مقامی میڈیا نے ہلاکتوں کی تعداد اس سے کہیں زیادہ بتائی ہے۔

واضح رہے کہ ارزگان صوبے میں بدھ کو افغان فوجی کی وردی میں ملبوس ایک شخص نے تین آسٹریلوی فوجیوں کو ہلاک کردیا تھا۔

فی الوقت ایک لاکھ تیس ہزار نیٹو فوجی تین لاکھ پچاس ہزار افغان فوجیوں کے ساتھ مل کر مسلح جنگجوؤں سے لڑ رہے ہیں۔

اس برس افغان سیکورٹی فورسز کی جانب سے کیےگئے حملوں میں اتحادی افواج کے پینتالیس فوجی مارے جاچکے ہیں اور ان میں بیشتر امریکی فوجی تھے۔

modiryat urdu

Recent Posts

اسلامی ممالک کا ایک دوسرے کے سامنے صف آرا ہونے میں کوئی خیر یا فائدہ نہیں

شیخ الاسلام مولانا عبدالحمید نے 31 جولائی 2026ء کے خطبہ جمعہ میں مشرقِ وسطیٰ میں…

1 hour ago

“عدل و انصاف کی ترویج”، “متحرک معیشت”، اور “عوام کی رضامندی” حکومتوں کی بقا کا راستہ ہیں

"عدل و انصاف کی ترویج"، "متحرک معیشت"، اور "عوام کی رضامندی" حکومتوں کی بقا کا…

1 week ago

حقوق اللہ اور حقوق الناس کی پامالی تقویٰ اور اعتدال کے راستے سے نکلنے کے مترادف ہے

زاہدان میں 17 جولائی 2026 کو نماز جمعہ کے اجتماعات کے دوران شیخ الاسلام مولانا…

2 weeks ago

“مذاکرات اور بات چیت” ملک کو بچانے کا بہترین طریقہ ہے

"مذاکرات اور بات چیت" ملک کو بچانے کا بہترین طریقہ ہے

3 weeks ago

غزہ میں اسرائیلی حملے جاری، 9 سالہ بچی سمیت کم از کم 6 فلسطینی شہید

غزہ میں جنگ بندی کے باوجود اسرائیلی حملوں کا سلسلہ جاری ہے۔

3 weeks ago

اللہ تعالیٰ اور رسول اللہ ﷺ کی اطاعت سب سے بڑا جہاد ہے

شیخ الاسلام مولانا عبدالحمید نے زاہدان میں نماز جمعہ تین جولائی 2026ء کے خطبے کے…

4 weeks ago