ممبئی حملے کے مجرم اجمل قصاب کے لیے سزائے موت کا فیصلہ برقرار

بھارتی سپریم کورٹ نے ممبئی حملوں میں ملوث زندہ بچ جانے والے واحد حملہ آور اجمل قصاب کی سزائے موت کا فیصلہ بر قرار رکھا ہے۔ اب وہ بھارتی صدر سے معافی کی اپیل کر سکتے ہیں۔
پاکستان سے تعلق رکھنے والے اجمل قصاب نے اپنی سزا کے خلاف سپریم کورٹ میں اپیل دائر کر رکھی تھی کہ ان کے خلاف منصفانہ مقدمہ نہیں چلایا گیا۔ بدھ کے روز بھارت کی اعلیٰ ترین عدلیہ کا دو ججوں کا کہنا تھا: ’’ہمارے پاس سزائے موت کا فیصلہ سنانے کے علاوہ کوئی دوسرا آپشن نہیں ہے۔‘‘
اجمل قصاب کو اس وقت ممبئی کی ایک جیل میں انتہائی سخت سکیورٹی میں رکھا گیا ہے۔ بھارت کی ایک ذیلی عدالت نے مئی 2010ء میں اجمل قصاب کو بھارت کے خلاف جنگ اور دہشت گردی کے جرائم ثابت ہونے پر سزائے موت سنائی تھی اور اب سپریم کورٹ نے بھی اس فیصلے کو برقرار رکھا ہے۔
سپریم کورٹ سے درخواست مسترد ہونے کے بعد توقع کی جا رہی ہے کہ اجمل قصاب معافی کی آخری درخواست بھارت کے نئے صدر پرناب مکھرجی سے کریں گے۔ بھارتی صدر کو پہلے ہی گیارہ ملزمان اپنی سزائے موت کے خلاف معافی کی درخواستیں دے چکے ہیں۔
بھارت میں گزشتہ پندرہ برسوں کے دوران صرف ایک شخص کو سزائے موت دی گئی۔ یہ شخص ایک سابق سکیورٹی گارڈ تھا، جسے 14 سالہ لڑکی کی عصمت دری اور قتل کے جرم میں پھانسی پر لٹکایا گیا تھا۔
اجمل قصاب 10 رکنی عسکریت پسندوں کے ایک گروپ کا واحد زندہ بچ جانے والا وہ رکن ہے، جو ممبئ میں ہونے والے دہشت گردانہ حملوں میں ملوث تھا۔ ان حملوں میں 166 افراد ہلاک جبکہ 300 سے زائد زخمی ہوئے تھے۔ نومبر دو ہزار آٹھ میں ایک ہوٹل سمیت، یہودیوں کے مرکز، ہسپتال اور ایک ریلوے اسٹیشن پر حملے کیے گئے تھے۔
بھارت کا موقف ہے کہ ان حملوں کے پیچھے پاکستان میں موجود عسکری گروپ لشکر طیبہ کا ہاتھ ہے جبکہ یہ الزام بھی تواتر سے سامنے آتا رہا ہے کہ ان حملہ آوروں کو مبینہ طور پر پاکستان کے حساس خفیہ اداروں کی پشت پناہی حاصل تھی۔ پاکستان ان الزامات کی تردید کرتا آیا ہے۔ اسلام آباد حکومت کے مطابق ان حملوں کی جزوی منصوبہ بندی کے لیے پاکستانی سر زمیں کو استعمال تو کیا گیا ہے لیکن ان میں حکومتی عناصر شامل نہیں تھے۔
پاکستانی حکومت نے ممبئی حملوں کے ایک مبینہ منصوبہ ساز ذکی الرحٰمن سمیت سات افراد کو حراست میں لے کر اُن کے خلاف عدالتی کارروائی شروع کر رکھی ہے لیکن یہ کارروائی تعطل کا شکار ہے۔

modiryat urdu

Recent Posts

کوئی بھی «جنگ» کی تمنا نہ کرے / جنگ کی روک تھام حکام کے ہاتھ میں ہے

شیخ الاسلام مولانا عبدالحمید نے جمعہ بیس فروری کو زاہدان کی نماز جمعہ کے اجتماع…

3 months ago

جنوری کے واقعات کا کوئی جواز نہیں؛ حکام جواز پیش کرنے کے بجائے عوام سے معافی مانگیں اور ان کے مطالبات تسلیم کریں

جنوری کے واقعات کا کوئی جواز نہیں؛ حکام جواز پیش کرنے کے بجائے عوام سے…

4 months ago

ایرانی عوام نے سن 1979ء میں “انصاف” اور “بہتر زندگی” کے حصول کے لیے انقلاب کیا

ایرانی عوام نے سن 1979ء میں “انصاف” اور “بہتر زندگی” کے حصول کے لیے انقلاب…

4 months ago

جنگ روکنے کا بہترین راستہ: ایرانی قوم کے مطالبات کو تسلیم کیا جائے

جنگ روکنے کا بہترین راستہ: ایرانی قوم کے مطالبات کو تسلیم کیا جائے

4 months ago

ایران میں حالیہ احتجاجات میں ہلاکتوں کی بڑی تعداد نے ایران کے عوام اور دنیا کو ’’حیرت زدہ اور مبہوت‘‘ کر دیا

ایران میں حالیہ احتجاجات میں ہلاکتوں کی بڑی تعداد نے ایران کے عوام اور دنیا…

4 months ago

حالیہ احتجاجات میں عوام کے قتلِ عام کی مذمت اور شہداء کے خاندانوں سے ہمدردی کا اظہار کرتے ہیں

حالیہ احتجاجات میں عوام کے قتلِ عام کی مذمت اور شہداء کے خاندانوں سے ہمدردی…

5 months ago