العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق انسانی حقوق کی عالمی تنظیم نے برما میں مسلمانوں کے نہتے قتل عام پر وہاں کی حکومت اور انتظامیہ کو کڑی تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے قتل عام کا ذمہ دار قرار دیا ہے۔ انسانی حقوق گروپ کا کہنا ہے کہ برما کی حکومت کی طرف سے قتل عام کے جو جواز پیش کیے جا رہے ہیں وہ کسی طور بھی قابل قبول نہیں ہیں۔ برما کی حکومت اس قتل عام کی ذمہ دار ہے۔
ایمنسٹی انٹرنیشنل کے ترجمان نے ایک بیان میں کہا ہے کہ برما کی ریاست اراکان میں مسلم اکثریتی شہر “روھینگیا” سے سینکڑوں مسلمانوں حراست میں ہیں، انہیں کہاں رکھا جا رہا ہے، اس بارے میں کسی کو کچھ معلوم نہیں۔ برمی حکومت کے ترجمان “وین میانگ” کا کہنا ہے کہ شہر میں حالات پر سکون ہیں۔
العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق برما میں گزشتہ مہینے پھوٹنے والی تشدد کی اس لہر میں گو کہ اب کسی حد تک کمی واقع ہوئی ہے تاہم انسانی حقوق کے عالمی ادارے اب بھی یہ رپورٹس دے رہے ہیں کہ تشدد کا سلسلہ جاری ہے اور مسلمانوں کو اب بھی قتل کیا جا رہا ہے۔ برما کے بوذی قبائل مسلمانوں کے خون کے پیاسے معلوم ہوتے ہیں اور دہشت گرد گروپوں کیجانب سے مسلمانوں کی بستیوں کو آگ لگا کر انہیں خاکستر کر دیا جاتا ہے۔
ایمنسٹی کا کہنا ہے کہ برما میں بوذی قبائل ایک منظم مہم کے تحت مسلمانوں کا قتل عام کرتے ہوئے ان کی بستیوں اور شہروں کو نیست و نابود کر رہے ہیں۔ ادھر ایمنسٹی انٹرنیشنل کی جانب سے جاری ایک رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ انتظامیہ نے مسلمانوں کے قتل عام میں ملوث عناصر کے خلاف نہ صرف کسی قسم کی کارروائی نہیں کی ہے بلکہ مسلمانوں کے تعاقب میں سرگرم عناصر کو روھینگیا شہر میں محصور مسلمان آبادی پر حملوں کی اجازت دے رکھی ہے۔
ایرانی عوام شدید ترین مہنگائی کا سامنا کر رہے ہیں؛ حکومت، پارلیمان اور نظامِ حاکمیت…
خراسان کے اہلِ سنت کا بارہواں فقہی مشاورتی اجلاس جمعرات کی صبح، 22 اکتوبر 2026ء…
ترکیہ اور آذربائیجان کے درمیان دیرینہ دوستانہ تعلقات میں تناؤ بڑھنے لگا ہے۔
فرانس کے وزیرِاعظم سیباستیان لیکورنو نے پیر کے روز مختلف علاقوں میں محدود پیمانے پر…
فیلڈ مارشل سید عاصم منیر اہم دورے پر ایرانی دارالحکومت تہران پہنچ گئے۔
جمہوریہ آذربائیجان کے اسکولوں میں حجاب پر پابندی جمہوریت کے اصولوں کے خلاف ہے؛ صدرِ…