ہزاروں نمازیوں سے جمعے کے اجتماع میں خطاب کرتے ہوئے مولانا عبدالحمید اسماعیلزہی نے مزیدکہا: سخی دوست جان ہر دلعزیز آدمی تھے جو امن و صلح کے داعی تھے۔ آپؒ قبائلی و ذاتی تنازعات کے تصفیہ سے ہمیشہ خطے میں پائیدار امن لانے کی کوشش کرتے۔
انہوں نے مزیدکہا: آپ کو ’سخی‘ اس وجہ سے کہاجاتا تھا کہ مہمانوں کا ایک ہجوم ہمیشہ ان کے گھر میں تھا۔ لوگ پاکستان و ایران اور افغانستان کے مختلف علاقوں سے ان کے گھر پہنچتے اور آپ ان کی خدمت کرکے ان کی مشکلات حل کرنے کی کوشش کرتے۔ آپ مہمان نوازی میں مشہور تھے۔ اللہ تعالی ان کی مکمل مغفرت کرکے ان کے پس ماندگان کو اجر و صبر نصیب فرمائے۔ ہمیں ان کیلیے دعا کرنی چاہیے، یہ ان کا حق ہے۔
ایرانی عوام شدید ترین مہنگائی کا سامنا کر رہے ہیں؛ حکومت، پارلیمان اور نظامِ حاکمیت…
خراسان کے اہلِ سنت کا بارہواں فقہی مشاورتی اجلاس جمعرات کی صبح، 22 اکتوبر 2026ء…
ترکیہ اور آذربائیجان کے درمیان دیرینہ دوستانہ تعلقات میں تناؤ بڑھنے لگا ہے۔
فرانس کے وزیرِاعظم سیباستیان لیکورنو نے پیر کے روز مختلف علاقوں میں محدود پیمانے پر…
فیلڈ مارشل سید عاصم منیر اہم دورے پر ایرانی دارالحکومت تہران پہنچ گئے۔
جمہوریہ آذربائیجان کے اسکولوں میں حجاب پر پابندی جمہوریت کے اصولوں کے خلاف ہے؛ صدرِ…