ہزاروں نمازیوں سے جمعے کے اجتماع میں خطاب کرتے ہوئے مولانا عبدالحمید اسماعیلزہی نے مزیدکہا: سخی دوست جان ہر دلعزیز آدمی تھے جو امن و صلح کے داعی تھے۔ آپؒ قبائلی و ذاتی تنازعات کے تصفیہ سے ہمیشہ خطے میں پائیدار امن لانے کی کوشش کرتے۔
انہوں نے مزیدکہا: آپ کو ’سخی‘ اس وجہ سے کہاجاتا تھا کہ مہمانوں کا ایک ہجوم ہمیشہ ان کے گھر میں تھا۔ لوگ پاکستان و ایران اور افغانستان کے مختلف علاقوں سے ان کے گھر پہنچتے اور آپ ان کی خدمت کرکے ان کی مشکلات حل کرنے کی کوشش کرتے۔ آپ مہمان نوازی میں مشہور تھے۔ اللہ تعالی ان کی مکمل مغفرت کرکے ان کے پس ماندگان کو اجر و صبر نصیب فرمائے۔ ہمیں ان کیلیے دعا کرنی چاہیے، یہ ان کا حق ہے۔
شیخ الاسلام مولانا عبدالحمید نے جمعہ بیس فروری کو زاہدان کی نماز جمعہ کے اجتماع…
جنوری کے واقعات کا کوئی جواز نہیں؛ حکام جواز پیش کرنے کے بجائے عوام سے…
ایرانی عوام نے سن 1979ء میں “انصاف” اور “بہتر زندگی” کے حصول کے لیے انقلاب…
جنگ روکنے کا بہترین راستہ: ایرانی قوم کے مطالبات کو تسلیم کیا جائے
ایران میں حالیہ احتجاجات میں ہلاکتوں کی بڑی تعداد نے ایران کے عوام اور دنیا…
حالیہ احتجاجات میں عوام کے قتلِ عام کی مذمت اور شہداء کے خاندانوں سے ہمدردی…