انہوں نے مزیدکہا: ہم نے اس تقریب میں شرکت کی تاکہ اللہ کا کلام سن کر اپنی اصلاح و تزکیہ کریں اور اپنے ملک کیلیے فائدہ مند فرد بن جائیں۔ ہمارا صوبہ (سیستان وبلوچستان) معادن اور ذخائر سے مالامال ہے؛ اس کی لمبی خشک سرحد بھی ہے۔ یہ سب کچھ مواقع ہیں جن کا صحیح فائدہ اٹھانا چاہیے۔ مشترکہ بارڈر کے ذریعے بے روزگار نوجوانوں کو روزگار فراہم کیاجاسکتا ہے۔
مسٹر جدگال نے مزیدکہا: مختلف اداروں کی سرپرستی کی تقسیم تقوا و انسانیت اور اسلامی معیاروں کی بنیاد پر ہونی چاہیے۔ اس صوبے کے فرزندوں میں یہ تجربہ و تقوا موجود ہے۔ اس صوبے کاتعلق پوری قوم سے ہے۔ یہاں کارخانے بند ہوتے جارہے ہیں، زراعت کا شعبہ زوال کی جانب رواں دواں ہے۔ ہمیں مزید یکجہتی و ہمدلی کی ضرورت ہے۔
انہوں نے ’امتیازی سلوک‘ کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا: قبائل و قومیتوں کے درمیان نافذ امتیازی سلوک کی وجہ سے بہت سارے اہل لوگ روزگار سے محروم رہتے ہیں؛ اس سے ہر شخص کا دل دکھتاہے۔ ہمارے نوجوان برسوں تک محنت کرتے ہیں اور اعلی ڈگری حاصل کرکے نامعلوم مستقبل کی جانب چلتے ہیں۔ انصاف کی فراہمی سے معاشرہ پرامن اور محفوظ رہے گا۔
چابہاری عوام کے نمایندے نے مزیدکہا: ہمیں اسلامی معاشرے میں عوام کے دلوں پر حکمرانی کرنی چاہیے۔ اسلامی حکومت کی حکمرانی دلوں پر ہوتی ہے جو دوستی و یکجہتی اور علمی و عملی سیاست کی ترقی کیلیے ہونی چاہیے۔
SunniOnline.us
مکہ مکرمہ: حرمین میں لگی سنگ مرمر کی ٹائلوں کی نمائش کا اہتمام
ماہ رنگ بلوچ اور صبغت اللہ کو دو دو مرتبہ عمر قید کی سزا
مفاہمتی معاہدے پر دستخط سے ایرانی عوام خوش ہیں / ایک خوشحال اور بہتر ایران…
کوئی بھی کتاب قرآن جتنی اثرانگیز نہیں ہے / قرآن حق اور سعادت کے چاہنے…
زاہدان اور نواحی علاقوں کے علما، ائمہ مساجد اور قرآنی کارکنان کا ایک مشاورتی اجلاس…
مولانا مفتی محمدقاسم بنیکمال (قاسمی) کا نئے ہجری سال 1448 کے آغاز پر پیغام