مس نیوی پلے نے عالمی برادری سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ شام میں کوفی عنان کے امن منصوبے کی حمایت کرے اور گذشتہ ہفتے الحولہ میں ایک سو سے زیادہ افراد کے قتل کے واقعہ کی تحقیقات میں مدد کرے۔
مس نیوی پلے نے یہ بات جنیوا میں اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل کے ایک خصوصی اجلاس کے لیے لکھی گئی تقریر میں کہی جو ان کی جانب سے وہاں پڑھ کر سنائی گئی ہے۔انھوں نے کہا کہ ”الحولہ میں قتل عام اور اس جیسی دیگر کارروائیاں انسانیت کے خلاف جرائم کے زمرے میں آتی ہیں اور یہ شہریوں کے خلاف منظم حملوں کی بھی عکاسی کرتی ہیں”۔
جنگی جرائم کی سابق جج مس نیوی پلے نے اس بات کا اعادہ کیا کہ ”جن لوگوں نے شام میں شہریوں پر حملوں کا حکم دیا یا ان کی معاونت کی یا شہریوں پر حملوں کو روکنے میں ناکام رہے تو وہ اپنے اقدامات پر قابل مواخذہ ہوں گے اور اس کے بغیر یہ ملک مکمل خانہ جنگی کی جانب گامزن ہے”۔
سینتالیس رکن ممالک پرمشتمل انسانی حقوق کونسل کا آج جمعہ سے جنیوا میں اجلاس ہورہا ہے جس میں شام کی صورت حال پر غور کیا جارہا ہے۔ گذشتہ سال مارچ میں صدر بشارالاسد کے خلاف جاری عوامی احتجاجی تحریک کے آغاز کے بعد انسانی حقوق کونسل کا یہ چوتھا اجلاس ہے۔
قطر،ترکی اور امریکا نے اس اجلاس کے لیے ایک قرارداد کا مسودہ پیش کیا ہے جس میں الحولہ کے واقعہ میں انچاس بچوں کی ہلاکت کی مذمت کی گئی ہے اور اس کی جامع اور آزادانہ خصوصی تحقیقات کا مطالبہ کیا گیا ہے۔دوسرے ممالک نے بھی شام میں ان ہلاکتوں کی مذمت کی ہے لیکن وہ اس کا معاملہ ہیگ میں قائم عالمی فوجداری عدالت کو بھیجنے کی مزاحمت کررہے ہیں۔
ایرانی عوام شدید ترین مہنگائی کا سامنا کر رہے ہیں؛ حکومت، پارلیمان اور نظامِ حاکمیت…
خراسان کے اہلِ سنت کا بارہواں فقہی مشاورتی اجلاس جمعرات کی صبح، 22 اکتوبر 2026ء…
ترکیہ اور آذربائیجان کے درمیان دیرینہ دوستانہ تعلقات میں تناؤ بڑھنے لگا ہے۔
فرانس کے وزیرِاعظم سیباستیان لیکورنو نے پیر کے روز مختلف علاقوں میں محدود پیمانے پر…
فیلڈ مارشل سید عاصم منیر اہم دورے پر ایرانی دارالحکومت تہران پہنچ گئے۔
جمہوریہ آذربائیجان کے اسکولوں میں حجاب پر پابندی جمہوریت کے اصولوں کے خلاف ہے؛ صدرِ…