حسن مبارک کے علاوہ انکے دو بیٹوں اعلی اور جمال پر بھی بدعنونی کا الزام تھا۔ حالانکہ انہیں اس الزام سے بری کردیا گیا ہے لیکن انہیں دیگر الزامات میں مقدمے کا سامنہ ہے۔
قاہرہ کی ایک خصوصی عدالت میں مبارک کے خلاف دس ماہ کی سماعت کے بعد مجرم پایا گیا ہے۔
عرب ممالک میں تیونس سے شروع ہوئے حکومت مخالف اور جمہوریت کے حامی مظاہرے دھیرے – دھیرے یمن، لیبیا، شام اور دیگر ممالک میں پھیل گئے لیکن حسنی مبارک وہ پہلے سیاسی رہنما ہیں جن کے خلاف مقدمہ چلا اور سزا بھی سنائی گئی ہے۔
مبارک اپنے خلاف لگائے گئے الزامات کی تردید کرتے رہے ہیں۔ مبارک کے خلاف اقتدار کا غلط استعمال کرنے سمیت کئی اور الزام بھی تھے لیکن انہیں بدعنوانی کے معاملات میں بری کردیا گیا ہے۔
اس کے علاوہ حسنی مبارک کے چار ساتھیوں کو رہا کردیا گیا ہے۔ بی بی سی کے نامہ نگار کا کہنا ہے کہ عدالت کے فیصلہ سنائے جانے کے بعد عدالت میں جھڑپیں شروع ہوگئی۔
نامہ نگاروں کے مطابق جھڑپیں اس وقت شروع ہوئیں جب سابق وزیر داخلہ حبیب العدلی کے چار ساتھی وزراء کو رہا کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔
جمہوریت کے حامی کارکنان ان لوگوں کو حسن مبارک کے اقتدار دوران کی پالیسیوں کو انجام دینے کا ملزم مانتے ہیں۔
قاہرہ میں عدالت کے باہر موجود بی بی سی نامہ نگار کا کہنا تھا کہ عدالتی فیصلے کا اعلان ہوتے ہی مصر میں حکومت مخالف مظاہروں میں ہلاک ہونے والوں کے لواحقین کے دوران خوشی کی لہر دوڑ گئی وہیں مبارک کے حامی اپنا سر پکڑ کر رونے لگے۔
حسنی مبارک کے خلاف چلنے والا مقدمہ گزشتہ سال اگست میں اس وقت اہمیت اختیار کر گیا جب تراسی سالہ حسنی مبارک نے دعویٰ کیا کہ وہ بہت بیمار تھے اور عدالت کے سامنے پیش نہیں ہو سکتے اس لیے وہ سٹریچر کے ذریعے عدالت میں پیش ہوئے۔
مصر کی فوجی کونسل کے سربراہ اور سابق وزیرِ دفاع فیلڈ مارشل محمد حسین تنتاوی نے کہا تھا کہ حسنی مبارک نے کبھی مظاہرین کو گولی مارنے کا حکم نہیں دیا۔
سابق مصری صدر کے خلاف مقدمے کے فیصلے کے موقعے پر قاہرہ میں سکیورٹی کے سخت انتظامات کیے گئے تھے اور ہزاروں فوجیوں کو دارالحکومت کی سڑکوں اور گلیوں میں تعینات کیا گیا۔
حسنی مبارک کے خلاف فیصلے کی عدالتی کارروائی مصری ٹی وی پر براہِ راست نشر کی گئی تھی۔
ایرانی عوام شدید ترین مہنگائی کا سامنا کر رہے ہیں؛ حکومت، پارلیمان اور نظامِ حاکمیت…
خراسان کے اہلِ سنت کا بارہواں فقہی مشاورتی اجلاس جمعرات کی صبح، 22 اکتوبر 2026ء…
ترکیہ اور آذربائیجان کے درمیان دیرینہ دوستانہ تعلقات میں تناؤ بڑھنے لگا ہے۔
فرانس کے وزیرِاعظم سیباستیان لیکورنو نے پیر کے روز مختلف علاقوں میں محدود پیمانے پر…
فیلڈ مارشل سید عاصم منیر اہم دورے پر ایرانی دارالحکومت تہران پہنچ گئے۔
جمہوریہ آذربائیجان کے اسکولوں میں حجاب پر پابندی جمہوریت کے اصولوں کے خلاف ہے؛ صدرِ…