ہیومن رائٹس واچ نے اس سلسلے میں پاکستان کے صدر آصف علی زرداری سے کہا ہے کہ وہ اس بل پر اس وقت تک دستخظ نہ کریں جب تک کمیشن کو یہ اختیار نہیں دیا جاتا۔
تنظیم کا کہنا ہے کہ اس نئ قومی کمیشن کو تب ہی عمل میں آنا چاہیے جب اسے انسانی حقوق کی پامالی کرنے پر خفیہ اداروں اور فوج کی تحقیقات کرنے کا اختیار حاصل ہو۔
اسلام آباد میں بی بی سی کی نامہ نگار ارم عباسی کا کہنا ہے کہ پاکستان کی قومی اسمبلی نے رواں ماہ انسانی حقوق سے متعلق ایک قومی کمشین کے قیام کے لیے بل پیش کیا تھا جس کی حتمی منظوری کے لیے صدر زرداری کے دستخط درکار ہیں۔
تنظیم نے جمعرات کو ایک بیان میں مطالبہ کیا کہ پاکستانی پارلیمان کو اس سلسلے میں پیرس پرنسپلز یا پیرس قوائد کی پیروی کرنی چاہیے جس میں کہا گیا ہے کہ کسی بھی انسانی حقوق کی کمیشن کے لیے ضروری ہے کہ وہ بااختیار اور خودمختار ہو تا کہ شہریوں کے حقوق کا بہتر تحفظ کیا جا سکے۔
ہیومن رائٹس واچ کے ایشا کے ڈاریکٹر بریڈ ایڈمز نے کہا ’قومی کمیشن برائے انسانی خقوق کو اگر بااختیار کیا جائے تو پاکستان میں ہیبت ناک انسانی خقوق کی صورت حال میں اہم کردار ادا کر سکتی ہے۔‘
ان کا مزید کہنا تھا ’صدر پاکستان کو پارلیمان کو بتانا چاہیے کہ جب تک فوجی اداروں اور خفیہ ایجنسیوں کی جانب سے ہونے والی خلاف وزریوں پر کمشین کو اتھارٹی نہیں دی جاتی وہ بل پر دستحظ نہیں کریں گئے۔‘
واضح رہے کہ گزشتہ برس مئی میں پراسرار طریقے سے ہلاک ہونے والے پاکستانی صحافی سلیم شہزاد نے کئی مرتبہ ہیومن رائٹس کمیشن کو آگاہ کیا تھا کہ انہیں خفیہ اداروں کے اہلکاروں کی جانب سے دھمکیاں مل رہی ہیں۔
“ہیومن رائٹس واچ نے اس سلسلے میں پاکستان کے صدر آصف علی زرداری سے کہا ہے کہ وہ اس بل پر اس وقت تک دستخظ نہ کریں جب تک کمیشن کو یہ اختیار نہیں دیا جاتا۔”
سلیم شہزاد کی ہلاکت کے محرکات جاننے کے لیے حکومت پاکستان نے کمشین بنایا تھا لیکن کمشین کسی مخصوص شحص کو قصور واار ٹھہرانے میں ناکام رہا۔ جس کے بعد ہیومن رائٹس واچ نے حکومتی کمیشن پر الزام عائد کیا تھا کہ وہ صحافی کی ہلاکت پر حفیہ ادارے آئی ایس آئی سے پوچھ گچھ کرنے سے خوف زدہ ہے۔
بریڈ ایڈمز نے کہا کہ پاکستانی فوج اور خفیہ اداروں کی طرف سے سنجیدہ اور منظم طریقے سے انسانی حقوق کی خلاف ورزی کرنے کی طویل تاریخ موجود ہے اور اس لیے نئی کمیشن کا مقصد بڑے عرصے سے چلے آنے والی ان خلاف ورزیوں سے نمٹنا ہونا چاہیے۔
زاہدان میں 17 جولائی 2026 کو نماز جمعہ کے اجتماعات کے دوران شیخ الاسلام مولانا…
"مذاکرات اور بات چیت" ملک کو بچانے کا بہترین طریقہ ہے
غزہ میں جنگ بندی کے باوجود اسرائیلی حملوں کا سلسلہ جاری ہے۔
شیخ الاسلام مولانا عبدالحمید نے زاہدان میں نماز جمعہ تین جولائی 2026ء کے خطبے کے…
دنیا کا ہر حساس فرد غزہ پر اسرائیلی جارحیت پر مضطرب ہے، نصف صدی قبل…
معروف عالم مولانا سید سلمان حسینی ندوی کا انتقال، علمی دنیا سوگوار