لياري کے علاقہ مکينوں کے لئے گزشتہ آٹھ دنوں سے جاري پوليس آپريشن کے بعد آج ايک معمول کا دن تھا. صبح صبح بچے طويل ناغہ کے بعد تعليم کا سلسلہ جوڑنے اسکول گئے تو دوسري جانب صبح کے اوقات ميں کھلنے والے چائے کے ہوٹل اور اخبارات کے اسٹالز پر خريداروں کا رش رہا.
گزشتہ شب پوليس کي جانب سے لياري آپريشن 48 گھنٹوں کيلئے روکنے کے اعلان کے بعد لياري کے متاثرہ علاقوں ميں معمولات زندگي بحال ہونا شروع ہوگئي ہيں اور سڑکوں پر ٹريفک بھي معمول کے مطابق ہے.دوکان داروں کا کہنا ہے کہ آٹھ دنوں سے جاري آپريشن ميں انہيں شديد مشکلات کا سامنا کرنا پڑا.
لياري ميں سي آئي ڈي پوليس نے ايف سي اور سندھ ريزرو پوليس کے ہمراہ آٹھ روز تک آپريشن کيا . آپريشن کے دوران علاقہ ميں کاروبار زندگي مکمل طور مفلوج رہي . اس دوران علاقے ميں موبائل سروس بند ہوگئي تھي جسے آج بحال کرديا گيا جبکہ آپريشن کے دوران فائرنگ سے علاقے ميں موجود پي ايم ٹيز تباہ ہوگئے تھے جن کا مرمتي کام جاري ہے اور بجلي کي بحالي شروع کردي گئي ہے.
شیخ الاسلام مولانا عبدالحمید نے جمعہ بیس فروری کو زاہدان کی نماز جمعہ کے اجتماع…
جنوری کے واقعات کا کوئی جواز نہیں؛ حکام جواز پیش کرنے کے بجائے عوام سے…
ایرانی عوام نے سن 1979ء میں “انصاف” اور “بہتر زندگی” کے حصول کے لیے انقلاب…
جنگ روکنے کا بہترین راستہ: ایرانی قوم کے مطالبات کو تسلیم کیا جائے
ایران میں حالیہ احتجاجات میں ہلاکتوں کی بڑی تعداد نے ایران کے عوام اور دنیا…
حالیہ احتجاجات میں عوام کے قتلِ عام کی مذمت اور شہداء کے خاندانوں سے ہمدردی…