Categories: بيانات

صحابہ کرام کی شان میں گستاخی کروڑوں مسلمانوں کی دل آزاری ہے

خطیب اہل سنت زاہدان شیخ الاسلام مولانا عبدلحمید دامت برکاتہم نے اپنے تازہ ترین خطبہ جمعہ کا آغاز سورت المائدہ کی آیت 77 کی تلاوت سے کرتے ہوئے حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا کے یوم الوفات کی مناسبت سے ان کی بعض صفات و فضائل کی جانب اشارہ کیا۔ انہوں نے میانہ روی و اعتدال کو اسلام کی اہم ترین خصوصیات سے شمار کرتے ہوئے کہا: توہین و گستاخی کسی بھی مذہب و دین میں جائز نہیں ہے۔ توہین بھائی چارے کی نفی ہے۔

بیان کے شروع میں انہوں نے کہا: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی چار بیٹیاں تھیں؛ حضرت رقیہ و ام کلثوم جو یکے بعد دیگرے خلیفہ سوم عثمان بن عفان کے نکاح میں تھیں اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی حیات میں وفات پاگئیں۔ تیسری بیٹی حضرت زینب تھیں جو ابوالعاص کے نکاح میں تھی اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم ان سے راضی تھے جس نے اپنا وعدہ پورا کرکے زینب کو مدینہ پہنچایا۔ دخت نبی فاطمہ زہرا پندرہ سال کی تھیں کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ سے ان کا نکاح ہوا۔

جامع مسجدمکی زاہدان میں خطاب کرتے ہوئے مولانا اسماعیلزہی نے مزیدکہا: حضرت فاطمہ ظاہری خلقت اور شکل وصورت نیز اخلاق کے لحاظ سے اپنے والد سرورِ کونین صلی اللہ علیہ وسلم کے بہت شبیہ تھیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی ساری بیٹیوں سے بہت پیار کرتے تھے لیکن فاطمہ سے بطورخاص محبت فرماتے تھے۔ صیح بخاری کی ایک روایت کیمطباق نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا فاطمہ جنتی خواتین کی سیدہ اور حضرات حسن و حسین جنت کے نوجوانوں کے سردار ہیں۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کی ایک روایت سے بھی یہی ثابت ہوتا ہے جس میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا: (میری وفات کے بعد) تو دوسروں سے پہلے میرے پاس آؤگی۔ اہل سنت کی کتب حدیث میں صحابہ کرام و اہل بیت کے فضائل تفصیل سے مذکور ہیں۔

بات آگے بڑھاتے ہوئے ممتاز عالم دین نے کہا: افسوسناک بات ہے کہ آج کل بعض مسلمان دنیا میں افراط و تفریط کا شکار ہوچکے ہیں۔ حالانکہ اسلام اعتدال و میانہ روی کا درس دیتاہے۔ بطور مثال بعض مسلمان پوری طرح تصوف وعرفان کی مخالفت کرتے ہیں اور اسے خرافات شمار کرتے ہیں، یہ افراط ہے۔ دوسری جانب کچھ لوگ تصوف کا غلط استعمال کرتے ہیں اور تصوف کی دوکان بنا کر تعویذ گنڈوں سے پیسہ کماتے ہیں، ایسے لوگ تفریط کا شکار ہیں۔ تصوف تعویذ لکھنے کا نام نہیں، عرفان و صوفیت کا مطلب ہے قرآن و سنت اور شریعت کی پیروی کرنا۔ تصوف کا درس یہ ہے کہ اپنی اصلاح و تزکیہ کرو اور دوسروں کی اصلاح کی فکر کرو۔ بعض لوگ تصوف کے عنوان سے ڈھول بجاتے ہیں، رقص کرتے ہیں اور کرامات کا دعوی کرکے خلاف عادت شغل دکھاتے ہیں۔ یاد رکھیں ہر خارق العادہ کام کرامت نہیں ہے۔

خطیب اہل سنت زاہدان نے مزیدکہا: شریعت اور سنت کی پیروی کرنا بزرگی کی علامت ہے۔ شیخ عبدالقادر جیلانیؒ جو اولیاء اللہ اور عرفاء میں سے ہیں اسی بات کو تصریح کرتے ہیں کہ تصوف اتباع شریعت کا نام ہے۔ شیخ احمد سرہندی جو ’مجدد الف ثانی‘ کے عنوان سے مشہور ہیں نے کسی بھی خلاف عادت کام کا مظاہرہ نہیں فرمایا۔

انہوں نے مزیدکہا: افسوس کی بات ہے کہ بعض لوگ تصوف کے نام پر معاشرے میں خرافات و بدعات کو رواج دیتے ہیں۔ حالانکہ حقیقی اہل عرفان ایسے کاموں سے بیزار ہیں۔ غیراللہ سے مدد طلب کرنا تصوف نہیں ہے۔ تصوف و عرفان توحید میں ہے، حقیقی صوفی اللہ کے عشق اور توحید میں غرق ہیں۔ قرآن وسنت اور شریعت پر عاشقانہ عمل کرتے ہیں۔تصوف کا مطلب بڑا جبہ و عمامہ پہن کر جن نکالنا یا پکڑنا نہیں ہے۔

حضرت شیخ الاسلام نے مزیدکہا: بعض لوگ دیگر مسائل میں افراط و تفریط کا شکار ہوتے ہیں۔ اللہ تعالی نے قرآن پاک میں اہل کتاب کو مخاطب کرکے فرمایا: ’’اے اہل کتاب اپنے دین میں غلو (افراط) مت کرو‘‘ پیغمبروں، صحابہ اور اہل بیت نبوی سے بلاشبہ محبت کرنی چاہیے لیکن اس میں افراط نہیں ہونا چاہیے۔ اللہ تعالی نے واضح فرمایا کہ عیسی ان کے بندے اور رسول ہیں، اللہ کا بیٹا یا حصہ نہیں ہیں جیسا کہ عیسائی سمجھتے ہیں، یہودی بھی عُزیر علیہ السلام کے حق میں افراط کا شکار تھے جنہیں اللہ کا بیٹا قرار دیتے۔ اللہ تعالی نے ان سب کو وارننگ دیا۔ اللہ رب العزت مسلمانوں سے بھی فرماتاہے اعتدال کی راہ مت چھوڑو۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میری تعریف میں عیسائیوں یا یہودیوں کی طرح مبالغہ نہیں کرو جنہوں نے عیسی و عزیر علیہماالسلام کو خدا یا خدا کا بیٹا قرار دیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم بلاشبہ قابل تعریف و تمجید ہیں لیکن صفات الہی مثلا علم غیب جو اللہ کی ذات سے مخصوص ہیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی نہیں ہوسکتیں۔ قرآن کی تصریح کے مطابق حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کا نبی و بندہ ہے۔

مہتمم دارالعلوم زاہدان نے مزیدکہا: انبیاء و صحابہ اور اہل بیت اللہ کے مقرب و محبوب تھے، لیکن بہرحال اللہ کے بندے اور محتاج تھے۔ صحابہ کرام اور اہل بیت رضی اللہ عنہم میں قریبی تعلق تھا۔ اہل بیت بھی صحابہ کرام میں شمار ہوتے ہیں جنہوں نے ایمان کی حالت پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی زیارت کی۔ اسی لیے یہ جو کہاجاتاہے صحابہ کرام نے حضرت فاطمہ کی شان میں گستاخی کی ہے یہ عقل سلیم اور معتبر روایات کے خلاف ہے۔ حضرت زہرا کا مقام اتنا بلند تھا کہ مسلمان اور صحابی اپنی جگہ غیرمسلم بھی ان کی شان مین گستاخی کی جرات نہیں کرسکتے۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ جو شیرِخدا کے لقب سے مشہور تھے ان کی بہادری اور اونچے مقام کے خلاف ہے کہ کوئی ان کی عزت و ناموس کی توہین کرے۔ حضرت عمرفاروق رضی اللہ عنہ سخت ترین حالات میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ رہے اور بدر و اُحد میں ایک لمحہ بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے دور نہیں ہوئے۔ یہ کیسے ممکن ہے کہ ان کی بیٹی کی شان میں گستاخی کریں؟ اس طرح کی باتوں عقل سلیم اور نقل صحیح نہیں مانتیں اور یہ حضرات عمر و علی اور فاطمہ کی شان سے دور ہیں۔

انہوں نے مزیدکہا: ابوبکر صدیق و عمرفاروق رضی اللہ عنہما کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی رشتہ داری پر فخر تھا۔ ابوبکر کا معمولی اختلاف نظر فاطمہ رضی اللہ عنہما سے ذاتی نہیں تھا بلکہ اسلامی معاشرے کیلیے تھا جو حدیث نبوی کی نقل کرنے سے فورا ختم ہوا۔ ابوبکرصدیق کے گھروالے فاطمہ کی وفات تک آپ کے ساتھ رہے۔ ازواج مطہرات اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی بیٹیاں سب اہل بیت میں داخل ہیں۔ اہل سنت کا عقیدہ ہے قرآن و احادیث کے حکم پر تمام صحابہ و اہل بیت سے محبت کرنی چاہیے۔

مولانا عبدالحمید نے مزیدکہا: جب صحابہ و اہل بیت کے درمیان کوئی نزاع نہیں تھا تو ان کے بعد مناسب نہیں شیعہ وسنی دست وگریبان ہوں۔ اہل سنت کی فقہ میں عزاداری نہیں جیسا کہ اہل تشیع کرتے ہیں لیکن ہم ان کی مقدسات کا احترام کرتے ہیں۔ توقع ہے شیعہ حضرات بھی اہل سنت کی مقدس شخصیات کا احترام کریں۔ ہم کسی بھی مسلمان کی توہین کو جائز نہیں سمجھتے۔ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی شان میں گستاخی جائز نہیں جو ایک ارب سے زائد مسلمانوں کے نزدیک واجب الاحترام ہیں۔ صحابہ کی شان میں گستاخی سے پوری دنیا کے کروڑوں مسلمانوں کی دل آزاری ہوتی ہے۔ شیعہ ہم وطنون سے ہمیں توقع ہے کہ دینی و ملکی رشتے کو ملحوظ رکھتے ہوئے میڈیا اور اپنی مجالس میں صحابہ کرام کی حرمت کا خیال رکھیں۔

انہوں نے تاکید کرتے ہوئے کہا: جیسا کہ سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای نے فتوا دیا تھا کہ حضرت عایشہ و ازواج مطہرات رضی اللہ عنہن کی توہین حرام ہے، ہمیں ’قم‘ کے مراجع تقلید اور شیعہ علماء سے امید ہے اپنے مقلدوں کو صحابہ کی شان مین گستاخی سے منع کریں۔ توہین کرنا کسی بھی مذہب میں جائز نہیں ہے۔ توہین بھائی چارہ اور اسلامی و انسانی رشتے کی نفی ہے۔ ایرانی حکام سے ہمارا مطالبہ ہے کہ ملک کے ہر کونے میں اہل سنت کو مذہبی آزادی اور حقوق دلوائیں تاکہ وہ آسانی سے اپنے رب کی عبادت کرسکیں۔

modiryat urdu

Recent Posts

کوئی بھی «جنگ» کی تمنا نہ کرے / جنگ کی روک تھام حکام کے ہاتھ میں ہے

شیخ الاسلام مولانا عبدالحمید نے جمعہ بیس فروری کو زاہدان کی نماز جمعہ کے اجتماع…

3 months ago

جنوری کے واقعات کا کوئی جواز نہیں؛ حکام جواز پیش کرنے کے بجائے عوام سے معافی مانگیں اور ان کے مطالبات تسلیم کریں

جنوری کے واقعات کا کوئی جواز نہیں؛ حکام جواز پیش کرنے کے بجائے عوام سے…

4 months ago

ایرانی عوام نے سن 1979ء میں “انصاف” اور “بہتر زندگی” کے حصول کے لیے انقلاب کیا

ایرانی عوام نے سن 1979ء میں “انصاف” اور “بہتر زندگی” کے حصول کے لیے انقلاب…

4 months ago

جنگ روکنے کا بہترین راستہ: ایرانی قوم کے مطالبات کو تسلیم کیا جائے

جنگ روکنے کا بہترین راستہ: ایرانی قوم کے مطالبات کو تسلیم کیا جائے

4 months ago

ایران میں حالیہ احتجاجات میں ہلاکتوں کی بڑی تعداد نے ایران کے عوام اور دنیا کو ’’حیرت زدہ اور مبہوت‘‘ کر دیا

ایران میں حالیہ احتجاجات میں ہلاکتوں کی بڑی تعداد نے ایران کے عوام اور دنیا…

4 months ago

حالیہ احتجاجات میں عوام کے قتلِ عام کی مذمت اور شہداء کے خاندانوں سے ہمدردی کا اظہار کرتے ہیں

حالیہ احتجاجات میں عوام کے قتلِ عام کی مذمت اور شہداء کے خاندانوں سے ہمدردی…

5 months ago