حکومت مخالفین اور انسانی حقوق کے کارکنان شامی حکومت پر الزام عائد کر رہے ہیں کہ سکیورٹی فورسز فائد بندی کے اعلان کے باوجود اپنی کارروائیاں جا رہی رکھے ہوئے ہیں اور حما شہر میں متعدد مقامات کو بھاری ہتھیاروں سے نشانہ بنایا گیا ہے۔ دوسری جانب سرکاری میڈیا نے ان پرتشدد واقعات کی ذمہ داری حکومت مخالفین پر عائد کی ہے۔
شام میں لوکل کوآرڈینیشن کمیٹی جو تشدد کے واقعات کو دستاویزی شکل دے رہی ہے، بتایا کہ حما شہر کے مشا الطیران ضلعے میں ایک راکٹ گرا، جس کے نتیجے میں 54 افراد موقع پر ہی ہلاک ہو گئے جبکہ 70 افراد زخمی ہوئے۔
انسانی حقوق کے کارکنوں اور مقامی افراد کے مطابق ہلاک ہونے والوں میں 13 بچے اور 16 خواتین شامل تھیں جب کہ اس راکٹ کے باعث متعدد مکانات خاک کا ڈھیر بن گئے اور ان مکانات کے ملبے تلے افراد کو نکالنے کا کام اب بھی جاری ہے۔
حکومت مخالف ویب سائٹس پر پوسٹ کی جانے والی ویڈیوز میں حما شہر میں متعدد مقامات بری طرح تباہ دکھائی دے رہے ہیں جب کہ مقامی افراد اپنے ہاتھوں سے ملبہ ہٹا کر زندہ افراد کی تلاش میں مصروف ہیں۔
شامی اپوزیشن نے دعویٰ کیا ہے کہ اقوام متحدہ اور عرب لیگ کے ایلچی برائے شام کوفی عنان کے چھ نکاتی امن منصوبے کے تحت شام میں 12 اپریل سے ہونے والی فائربندی کے بعد سے اب تک شام بھر میں تین سو افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔
ادھر شام کے سرکاری میڈیا پر دعویٰ کیا گیا ہے کہ دارالحکومت دمشق کے نواحی علاقے دوما میں ’مسلح دہشت گردوں‘ نے ایک ایمبولینس کو نشانہ بنایا، جس کے نتیجے میں ایک رضاکار ہلاک اور ایک زخمی ہو گیا۔
ادھر اپوزیشن نے کہا ہے کہ دوما میں فورسز کی جانب سے کی گئی شیلنگ کے نتیجے میں دس افراد ہلاک ہوئے۔
شام کی ہائیر کونسل فار ریوولوشن نے جمہوریت پسندوں سے کہا ہے کہ وہ اقوام متحدہ کا مبصرین سے نہ ملیں کیونکہ مبصرین کے علاقہ چھوڑنے کے بعد حکومتی فورسز ایسے کارکنوں کو ہلاک کر رہی ہیں۔
اقوام متحدہ کے مطابق گزشتہ برس مارچ سے اب تک شام میں ہونے والے حکومت مخالف تحریک میں نو ہزار افراد اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھے ہیں۔ ہفتے کے روز اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے ایک متفقہ قرارداد کے ذریعے شام میں 300 مبصرین کی تعیناتی کا اعلان کیا تھا۔
"مذاکرات اور بات چیت" ملک کو بچانے کا بہترین طریقہ ہے
غزہ میں جنگ بندی کے باوجود اسرائیلی حملوں کا سلسلہ جاری ہے۔
شیخ الاسلام مولانا عبدالحمید نے زاہدان میں نماز جمعہ تین جولائی 2026ء کے خطبے کے…
دنیا کا ہر حساس فرد غزہ پر اسرائیلی جارحیت پر مضطرب ہے، نصف صدی قبل…
معروف عالم مولانا سید سلمان حسینی ندوی کا انتقال، علمی دنیا سوگوار