Categories: مشرق وسطی

حما سمیت شام بھر میں مزید 66 افراد ہلاک

دمشق(ڈوئچے ویلے) فائربندی کے نفاذ کے باوجود بدھ کے روز شام کے مختلف علاقوں میں تشدد کے متعدد واقعات میں درجنوں افراد ہلاک ہوگئے۔ سب سے زیادہ علاقتیں حما شہر میں ہوئیں۔
حکومت مخالفین اور انسانی حقوق کے کارکنان شامی حکومت پر الزام عائد کر رہے ہیں کہ سکیورٹی فورسز فائد بندی کے اعلان کے باوجود اپنی کارروائیاں جا رہی رکھے ہوئے ہیں اور حما شہر میں متعدد مقامات کو بھاری ہتھیاروں سے نشانہ بنایا گیا ہے۔ دوسری جانب سرکاری میڈیا نے ان پرتشدد واقعات کی ذمہ داری حکومت مخالفین پر عائد کی ہے۔
شام میں لوکل کوآرڈینیشن کمیٹی جو تشدد کے واقعات کو دستاویزی شکل دے رہی ہے، بتایا کہ حما شہر کے مشا الطیران ضلعے میں ایک راکٹ گرا، جس کے نتیجے میں 54 افراد موقع پر ہی ہلاک ہو گئے جبکہ 70 افراد زخمی ہوئے۔
انسانی حقوق کے کارکنوں اور مقامی افراد کے مطابق ہلاک ہونے والوں میں 13 بچے اور 16 خواتین شامل تھیں جب کہ اس راکٹ کے باعث متعدد مکانات خاک کا ڈھیر بن گئے اور ان مکانات کے ملبے تلے افراد کو نکالنے کا کام اب بھی جاری ہے۔
حکومت مخالف ویب سائٹس پر پوسٹ کی جانے والی ویڈیوز میں حما شہر میں متعدد مقامات بری طرح تباہ دکھائی دے رہے ہیں جب کہ مقامی افراد اپنے ہاتھوں سے ملبہ ہٹا کر زندہ افراد کی تلاش میں مصروف ہیں۔
شامی اپوزیشن نے دعویٰ کیا ہے کہ اقوام متحدہ اور عرب لیگ کے ایلچی برائے شام کوفی عنان کے چھ نکاتی امن منصوبے کے تحت شام میں 12 اپریل سے ہونے والی فائربندی کے بعد سے اب تک شام بھر میں تین سو افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔
ادھر شام کے سرکاری میڈیا پر دعویٰ کیا گیا ہے کہ دارالحکومت دمشق کے نواحی علاقے دوما میں ’مسلح دہشت گردوں‘ نے ایک ایمبولینس کو نشانہ بنایا، جس کے نتیجے میں ایک رضاکار ہلاک اور ایک زخمی ہو گیا۔
ادھر اپوزیشن نے کہا ہے کہ دوما میں فورسز کی جانب سے کی گئی شیلنگ کے نتیجے میں دس افراد ہلاک ہوئے۔
شام کی ہائیر کونسل فار ریوولوشن نے جمہوریت پسندوں سے کہا ہے کہ وہ اقوام متحدہ کا مبصرین سے نہ ملیں کیونکہ مبصرین کے علاقہ چھوڑنے کے بعد حکومتی فورسز ایسے کارکنوں کو ہلاک کر رہی ہیں۔
اقوام متحدہ کے مطابق گزشتہ برس مارچ سے اب تک شام میں ہونے والے حکومت مخالف تحریک میں نو ہزار افراد اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھے ہیں۔ ہفتے کے روز اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے ایک متفقہ قرارداد کے ذریعے شام میں 300 مبصرین کی تعیناتی کا اعلان کیا تھا۔

modiryat urdu

Recent Posts

ایرانی عوام شدید ترین مہنگائی کا سامنا کر رہے ہیں؛ حکومت، پارلیمان اور نظامِ حاکمیت عوام کے معاشی حالات پر توجہ دیں

ایرانی عوام شدید ترین مہنگائی کا سامنا کر رہے ہیں؛ حکومت، پارلیمان اور نظامِ حاکمیت…

2 days ago

خراسان کے اہلِ سنت کا بارہواں فقہی اجلاس منعقد ہوا

خراسان کے اہلِ سنت کا بارہواں فقہی مشاورتی اجلاس جمعرات کی صبح، 22 اکتوبر 2026ء…

2 days ago

حجاب اور اسرائیل کے معاملے پر اختلافات، ترکیہ آذربائیجان کے درمیان بڑھتی دوریاں

ترکیہ اور آذربائیجان کے درمیان دیرینہ دوستانہ تعلقات میں تناؤ بڑھنے لگا ہے۔

6 days ago

فرانس میں مہنگائی کے خلاف پرتشدد احتجاج جاری، وزیراعظم کی کرفیو لگانے کی تجویز

فرانس کے وزیرِاعظم سیباستیان لیکورنو نے پیر کے روز مختلف علاقوں میں محدود پیمانے پر…

6 days ago

خطے میں کشیدگی؛ فیلڈ مارشل اہم دورے پر تہران پہنچ گئے

فیلڈ مارشل سید عاصم منیر اہم دورے پر ایرانی دارالحکومت تہران پہنچ گئے۔

6 days ago

جمہوریہ آذربائیجان کے اسکولوں میں حجاب پر پابندی جمہوریت کے اصولوں کے خلاف ہے؛ صدرِ آذربائیجان اپنا حکم واپس لیں

جمہوریہ آذربائیجان کے اسکولوں میں حجاب پر پابندی جمہوریت کے اصولوں کے خلاف ہے؛ صدرِ…

1 week ago