امن و امان کے قیام سے متعلق حکومت کے دعوے ہی ثابت ہوئے۔شہر کی فضاوں میں چلنے والی اندھی اور بہری گولیوں نے40 سے زائد افراد کی زندگیاں چاٹ لیں۔ ان میں سے کتنے ہی اپنے گھروں کے واحد کفیل تھے۔ مختلف علاقوں میں بین کرتی ہوئی ایمبولینس مرنے والوں کے لاشے ڈھو ڈھو کر اسپتال پہنچاتی رہیں مگر قاتلوں کا کہیں پتہ نہ چلا۔
شہر قائد میں جلاو گھیراو اور ہڑتالوں کا سلسلہ اس وقت شروع ہوا جب پیر کے روز پی آئی بی کالونی مین مسلح افراد نے گھر میں گھس کر ایم کیو ایم کے کارکن کو قتل کردیا۔جس کے بعد شہر کے مختلف علاقوں میں10 سے زائد افراد لقمہ اجل بن گئے۔اس دوران46 درجن سے زائد گاڑیاں جلا دی گئیں۔
پیر کے روز ایم کیو ایم کے کارکن کی ہلاکت ہوئی تو منگل کو عوامی نیشنل پارٹی کے کارکن کو موت کے گھاٹ اتار دیا گیا۔یوں شہر کے تعلیمی ادارے اور بازار پھر بند ہوگئے سڑکوں پر مہیب سناٹا چھا گیا۔جمعہ کی شب بھی سکون سے نہ گزری ،مسلح افراد نے فائرنگ کرکے عوامی نیشنل پارٹی کے 3 اور متحدہ قومی موومنٹ کے4 ہمدردوں کو موت کے گھاٹ اتار دیا ۔
عوام کا کہنا ہے کہ انہیں روز اس شہر میں گرنے والی لاشیں نظر آتی ہیں مگر حکومت کو قاتل کیوں نہیں نظر آتے۔
شیخ الاسلام مولانا عبدالحمید نے جمعہ بیس فروری کو زاہدان کی نماز جمعہ کے اجتماع…
جنوری کے واقعات کا کوئی جواز نہیں؛ حکام جواز پیش کرنے کے بجائے عوام سے…
ایرانی عوام نے سن 1979ء میں “انصاف” اور “بہتر زندگی” کے حصول کے لیے انقلاب…
جنگ روکنے کا بہترین راستہ: ایرانی قوم کے مطالبات کو تسلیم کیا جائے
ایران میں حالیہ احتجاجات میں ہلاکتوں کی بڑی تعداد نے ایران کے عوام اور دنیا…
حالیہ احتجاجات میں عوام کے قتلِ عام کی مذمت اور شہداء کے خاندانوں سے ہمدردی…