غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق افغانستان کے مقامی ذرائع ابلاغ نے کہا ہے کہ افغان ایوان نمائندگان پر مشتمل تحقیقاتی ٹیم 16 شہریوں کی ہلاکت کے واقعہ کی تحقیقات کیلئے قندھار روانہ کی گئی تھی نے کہا کہ 15سے 20 امریکی فوجیوں کے دو گروپوں نے حملے کا منصوبہ بنایا تھا۔
11 مارچ کو مبینہ طور پر پنجوائی میں ایک امریکی فوجی اڈے سے باہر آیا اور قریبی آبادی میں اندھا دھند فائرنگ کر کے 3 خواتین اور 9 بچوں سمیت 16 افراد کو ہلاک جبکہ 9 کو زخمی کر دیا۔
امریکی تحقیقاتی رپورٹس میں قرار دیا گیا ہے کہ واقعہ میں ایک امریکی فوجی ملوث ہے جس کوحراست میں لے لیا گیا ہے۔ افغان پارلیمانی تحقیقاتی وفد کے ایک رکن محمد نعیم لالی حامدزئی نے کہا کہ شہریوں کی ہلاکت سے قبل دو خواتین کو جنسی زیادتی کا نشانہ بنایا گیا۔
افغان صدر حامد کرزئی کی جانب سے تشکیل دی گئی تحقیقاتی کمیٹی نے اپنی باضابطہ رپورٹ جاری نہ کی ہے۔
ایرانی عوام شدید ترین مہنگائی کا سامنا کر رہے ہیں؛ حکومت، پارلیمان اور نظامِ حاکمیت…
خراسان کے اہلِ سنت کا بارہواں فقہی مشاورتی اجلاس جمعرات کی صبح، 22 اکتوبر 2026ء…
ترکیہ اور آذربائیجان کے درمیان دیرینہ دوستانہ تعلقات میں تناؤ بڑھنے لگا ہے۔
فرانس کے وزیرِاعظم سیباستیان لیکورنو نے پیر کے روز مختلف علاقوں میں محدود پیمانے پر…
فیلڈ مارشل سید عاصم منیر اہم دورے پر ایرانی دارالحکومت تہران پہنچ گئے۔
جمہوریہ آذربائیجان کے اسکولوں میں حجاب پر پابندی جمہوریت کے اصولوں کے خلاف ہے؛ صدرِ…