غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق افغانستان کے مقامی ذرائع ابلاغ نے کہا ہے کہ افغان ایوان نمائندگان پر مشتمل تحقیقاتی ٹیم 16 شہریوں کی ہلاکت کے واقعہ کی تحقیقات کیلئے قندھار روانہ کی گئی تھی نے کہا کہ 15سے 20 امریکی فوجیوں کے دو گروپوں نے حملے کا منصوبہ بنایا تھا۔
11 مارچ کو مبینہ طور پر پنجوائی میں ایک امریکی فوجی اڈے سے باہر آیا اور قریبی آبادی میں اندھا دھند فائرنگ کر کے 3 خواتین اور 9 بچوں سمیت 16 افراد کو ہلاک جبکہ 9 کو زخمی کر دیا۔
امریکی تحقیقاتی رپورٹس میں قرار دیا گیا ہے کہ واقعہ میں ایک امریکی فوجی ملوث ہے جس کوحراست میں لے لیا گیا ہے۔ افغان پارلیمانی تحقیقاتی وفد کے ایک رکن محمد نعیم لالی حامدزئی نے کہا کہ شہریوں کی ہلاکت سے قبل دو خواتین کو جنسی زیادتی کا نشانہ بنایا گیا۔
افغان صدر حامد کرزئی کی جانب سے تشکیل دی گئی تحقیقاتی کمیٹی نے اپنی باضابطہ رپورٹ جاری نہ کی ہے۔
مکہ مکرمہ: حرمین میں لگی سنگ مرمر کی ٹائلوں کی نمائش کا اہتمام
ماہ رنگ بلوچ اور صبغت اللہ کو دو دو مرتبہ عمر قید کی سزا
مفاہمتی معاہدے پر دستخط سے ایرانی عوام خوش ہیں / ایک خوشحال اور بہتر ایران…
کوئی بھی کتاب قرآن جتنی اثرانگیز نہیں ہے / قرآن حق اور سعادت کے چاہنے…
زاہدان اور نواحی علاقوں کے علما، ائمہ مساجد اور قرآنی کارکنان کا ایک مشاورتی اجلاس…
مولانا مفتی محمدقاسم بنیکمال (قاسمی) کا نئے ہجری سال 1448 کے آغاز پر پیغام