ترک روزنامے “الصباح” کے مطابق سھیلہ تفکجی نامی خاتون شامی انٹلیجنس اداروں کے لئے کام کرتی تھیں۔ وہ شامی سرحدی علاقے ھاتائی میں بشار الاسد فوج سے منحرف اور بھگوڑے فوجیوں کے کیمپ سے بریگیڈئر الاسعد کو اغوا کرنے آئیں۔
اخبار کے مطابق معلومات اپنے اہداف کے بارے میں جمع کرنے کی خاطر تفکجی کی ایک اور شامی نے بھی مدد کی۔ اس دوران ترک فوج کے خفیہ اداروں کا ایک افسر ان دونوں کا پیچھا کرتا رہا اور انتہائی باریک بینی سے ان کی سرگرمیاں مانیٹر کرنے کے بعد تفکجی کو گزشتہ ہفتے حراست میں لے لیا گیا۔
متعدد ترکوں کو بھی تفکجی کو مدد فراہم کے الزام میں حراست میں لے لیا گیا جو اغوا کی ناکام کارروائی میں ان کی مدد کر رہے تھے۔
شیخ الاسلام مولانا عبدالحمید نے جمعہ بیس فروری کو زاہدان کی نماز جمعہ کے اجتماع…
جنوری کے واقعات کا کوئی جواز نہیں؛ حکام جواز پیش کرنے کے بجائے عوام سے…
ایرانی عوام نے سن 1979ء میں “انصاف” اور “بہتر زندگی” کے حصول کے لیے انقلاب…
جنگ روکنے کا بہترین راستہ: ایرانی قوم کے مطالبات کو تسلیم کیا جائے
ایران میں حالیہ احتجاجات میں ہلاکتوں کی بڑی تعداد نے ایران کے عوام اور دنیا…
حالیہ احتجاجات میں عوام کے قتلِ عام کی مذمت اور شہداء کے خاندانوں سے ہمدردی…