ترک روزنامے “الصباح” کے مطابق سھیلہ تفکجی نامی خاتون شامی انٹلیجنس اداروں کے لئے کام کرتی تھیں۔ وہ شامی سرحدی علاقے ھاتائی میں بشار الاسد فوج سے منحرف اور بھگوڑے فوجیوں کے کیمپ سے بریگیڈئر الاسعد کو اغوا کرنے آئیں۔
اخبار کے مطابق معلومات اپنے اہداف کے بارے میں جمع کرنے کی خاطر تفکجی کی ایک اور شامی نے بھی مدد کی۔ اس دوران ترک فوج کے خفیہ اداروں کا ایک افسر ان دونوں کا پیچھا کرتا رہا اور انتہائی باریک بینی سے ان کی سرگرمیاں مانیٹر کرنے کے بعد تفکجی کو گزشتہ ہفتے حراست میں لے لیا گیا۔
متعدد ترکوں کو بھی تفکجی کو مدد فراہم کے الزام میں حراست میں لے لیا گیا جو اغوا کی ناکام کارروائی میں ان کی مدد کر رہے تھے۔
"پابندیوں میں اضافہ"، "طویل جنگ" اور "پرانی پالیسیوں پر اصرار" ملک کو مزید بحرانوں کی…
لاہور ہائیکورٹ نے افغان میڈیکل طلبہ کو کالجز سے نکالنے کے خلاف درخواستوں پر تحریری…
مغرب میں انسانی حقوق کی جو تاریخ بیان کی جاتی ہے، اسکا آغاز عموماً میگنا…
مشرق وسطیٰ کے ممالک اپنا سیکیورٹی نظام بنائیں؛ چینی صدر بھی فلسطین کے حق میں…
مکہ دفاعی اتحاد خطے میں امن و استحکام کا ضامن ہے، ترک صدر اردوان