قاہرہ میں عدالت میں دلائل دیتے ہوئے حکومتی وکیل مصطفی سلیمان نے کہا کہ سابق مصری صدر نے سیکڑوں شہریوں کا قتل عام کیا۔ حکومت کے خلاف ہونے والے احتجاجی مظاہروں کے دوران گولی مارنے کا حکم دیا، جس میں پچیس جنوری سے گیارہ فروری کے درمیان صرف اٹھارہ دنوں میں آٹھ سو پچاس افراد کو موت کے گھاٹ اتارا گیا۔
وکیل کا مزید کہنا تھا کہ انسانی جانوں کے ضیاع میں سابق مصری صدر کا ساتھ دینے والے سابق وزیر داخلہ حبیب الایڈلے اور چار اہم سیکورٹی افسران کو بھی کڑی سے کڑی سزا ملنی چاہیئے۔
شیخ الاسلام مولانا عبدالحمید نے جمعہ بیس فروری کو زاہدان کی نماز جمعہ کے اجتماع…
جنوری کے واقعات کا کوئی جواز نہیں؛ حکام جواز پیش کرنے کے بجائے عوام سے…
ایرانی عوام نے سن 1979ء میں “انصاف” اور “بہتر زندگی” کے حصول کے لیے انقلاب…
جنگ روکنے کا بہترین راستہ: ایرانی قوم کے مطالبات کو تسلیم کیا جائے
ایران میں حالیہ احتجاجات میں ہلاکتوں کی بڑی تعداد نے ایران کے عوام اور دنیا…
حالیہ احتجاجات میں عوام کے قتلِ عام کی مذمت اور شہداء کے خاندانوں سے ہمدردی…