مقامی خبررساں اداروں کے مطابق ’’راسک‘‘ شہر میں واقع مسجدخضرا کے خطیب مولوی مصطفی جنگیزہی کو گھات لگائے نامعلوم مسلح افراد نے اس وقت گولیوں کا نشانہ بنایا جب وہ جمعہ پڑھانے کے بعد گھر واپس جارہے تھے، انہیں ساتھ دینے والا ایک اور شخص بھی موقع پر جاں بحق ہوا۔
یاد رہے اب تک کسی فرد یا گروہ نے واقعے کی ذمہ داری قبول نہیں کی ہے جب کہ مولوی جنگیزہی کے قتل کے پیچھے ممکنہ محرکات واسباب اب تک واضح نہیں ہیں۔
صوبے کی متعدد سیاسی و مذہبی شخصیات بشمول دارالعلوم زاہدان کی اساتذہ کمیونٹی نے واقعے کی شدید مذمت کرتے ہوئے مرحوم کی مکمل مغفرت اور پس ماندگان کیلیے صبرجمیل کی دعا کی ہے۔
شیخ الاسلام مولانا عبدالحمید نے جمعہ بیس فروری کو زاہدان کی نماز جمعہ کے اجتماع…
جنوری کے واقعات کا کوئی جواز نہیں؛ حکام جواز پیش کرنے کے بجائے عوام سے…
ایرانی عوام نے سن 1979ء میں “انصاف” اور “بہتر زندگی” کے حصول کے لیے انقلاب…
جنگ روکنے کا بہترین راستہ: ایرانی قوم کے مطالبات کو تسلیم کیا جائے
ایران میں حالیہ احتجاجات میں ہلاکتوں کی بڑی تعداد نے ایران کے عوام اور دنیا…
حالیہ احتجاجات میں عوام کے قتلِ عام کی مذمت اور شہداء کے خاندانوں سے ہمدردی…