بھارتی اخبار انڈین ایکسپریس کے مطابق کرناٹک کے بیجا پور ضلع میں تحصیلدار کے دفتر پر پاکستانی پر چم لگایا تاکہ اسے لگانے کا الزام مسلمانوں پرعائد کرکے مذہبی کشیدگی کو پیداکیاجائے۔
بیجا پور پولیس کے دی سی راج پا نے گرفتاریوں کا اعلان کرتے ہوئے کہاکہ ان لوگوں کا خیال تھا کہ مذہبی کشیدگی سے ان کی تنظیم کی مقبولیت میں اضافہ ہوگا۔
شری رام سینا کے سربراہ پر مودمتھالک کا کہنا ہے کہ گرفتار کیے جانے والے نوجوانوں کا ان کی تنظیم کوئی تعلق نہیں وہ اسی طرح کی سرگرمیوں میں ملوث افراد کی تفتیش کریں گے۔
شری رام سینا کے حوالے سے اخبار نے لکھا کہ یہ ایک قدامت پسند تنظیم ہے جو کہ ملک کی تہذیب و سماجی اقدار کے تحفظ کے نام پر نوجوانوں کو نشانہ بناتی رہی ہےکچھ عرصے قبل اس کے کارکنان نے شراب خانے میں لڑکیوں کو زدوکوب بھی کیا تھا۔
پولیس کا کہنا ہےکہ تمام ملزمان کی عمریں 18 سے 20 کے درمیان ہیں جو کہ کالج میں پڑھتے ہیں جب کہ جھنڈا ان ہی میں ایک گھر پر بنایا گیا جن کی گرفتاری پر بجرنگ دل وشو ہندو پریشد اور خود شری رام سینا نے پولیس گاڑیوں پر پتھراؤ کیا تھا۔
پاکستانی پرچم لہرائے جاننے کی خبر سننے پر علاقے میں کشیدگی پیدا ہوگئی اور باقی ہندو تنظیموں نے دوکانے بند کروادیں جب کہ پیر کے روز عام ہڑتال کا اعلان کردیا ہے۔
شیخ الاسلام مولانا عبدالحمید نے جمعہ بیس فروری کو زاہدان کی نماز جمعہ کے اجتماع…
جنوری کے واقعات کا کوئی جواز نہیں؛ حکام جواز پیش کرنے کے بجائے عوام سے…
ایرانی عوام نے سن 1979ء میں “انصاف” اور “بہتر زندگی” کے حصول کے لیے انقلاب…
جنگ روکنے کا بہترین راستہ: ایرانی قوم کے مطالبات کو تسلیم کیا جائے
ایران میں حالیہ احتجاجات میں ہلاکتوں کی بڑی تعداد نے ایران کے عوام اور دنیا…
حالیہ احتجاجات میں عوام کے قتلِ عام کی مذمت اور شہداء کے خاندانوں سے ہمدردی…