اپنے عہدے سے مستعفی ہونے والے سابق انسپکٹر جنرل الحاج حمد نے “العربیہ” ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ “ان کی بشارالاسد کی حکومت سے علاحدگی کسی بھی آزاد شامی شہری کا فطری ردعمل ہے”۔ انہوں نے انکشاف کیا کہ فوج اور دیگر محکموں کے اعلیٰ عہدیداروں کی بڑی تعداد حکومت سے علاحدگی اختیار کرنا چاہتی ہے لیکن فوج کے ہاتھوں گرفتاری کے خوف سے وہ ایسا کرنے سے گریز کر رہے ہیں۔
ایک سوال کے جواب میں سابق انسپکٹر جنرل نے کہا کہ مجموعی طور پر پوری شامی حکومت ایک جیل میں گھری ہوئی ہے جہاں کسی بھی شخص کو آزادی کے ساتھ نقل وحرکت کی اجازت نہیں۔ ہر جگہ پر سیکیورٹی فورسز کے اہلکار موجود ہیں جو ایک ایک شخص کی نقل وحرکت پر نظر رکھے ہوئے ہیں۔ بڑی تعداد میں لوگ فرار ہونا چاہتے ہیں لیکن انہیں یہ خدشہ ہے کہ یا وہ خود پکڑے جائیں گے یا فوج ان کے اہل خانہ کو اٹھا کر لے جائے گی۔ لوگ اس بڑی جیل سے فرار کی راہیں تلاش کر رہے ہیں تاہم انہیں کچھ سمجھ نہیں آتا۔
الحاج حمد نے شام میں شہریوں کی ہلاکت کی تمام تر ذمہ داری فوج پر عائد کی۔ ان کا کہنا تھا کہ بے گناہ شہریوں کا قتل عام سیکیورٹی فورسز کی گردنوں پر ہے۔ سیکیورٹی فورسز کے تین ادارے براہ راست شہریوں قتل عام میں ملوث ہیں جن میں ملٹری انٹلیجنس، جنرل انٹلیجنس اور اس کی ذیلی شاخ فضائی سراغ رساں یونٹ شہریوں کا خون بہانے میں پیش پیش ہیں۔ کسی قسم کی انسانی اور اخلاقی اقدار سے عاری یہ ملٹری ادارے سنگین نوعیت کے جنگی جرائم کے مرتکب ہو رہے ہیں۔
فوج کی فائرنگ سے مزید 14 ہلاکتیں
“العربیہ ڈاٹ نیٹ” کے مطابق جمعرات کے روز حمص میں فوج کی فائرنگ سے مزید 14 افراد مارے گئے۔ پچھلے چوبیس گھنٹوں کے دوران حمص میں فوج کی فائرنگ اور تشدد سے مارے جانے والے شہریوں کی تعداد 31 ہو گئی ہے۔
شام کے شورش زدہ شہروں میں حالات بدستور کشیدہ ہیں۔ حمص سمیت کئی دیگر بڑے شہروں میں فوج کے چھاپوں نے شہریوں میں خوف و ہراس میں اضافہ کر دیا ہے۔ اطلاعات کے مطابق ملک کے بعض شہروں میں قائم جیلوں میں قیدیوں کو کچھ سہولتیں بھی دی گئی ہیں تاکہ انہیں عرب مبصرین کو دکھایا جا سکے۔
شیخ الاسلام مولانا عبدالحمید نے جمعہ بیس فروری کو زاہدان کی نماز جمعہ کے اجتماع…
جنوری کے واقعات کا کوئی جواز نہیں؛ حکام جواز پیش کرنے کے بجائے عوام سے…
ایرانی عوام نے سن 1979ء میں “انصاف” اور “بہتر زندگی” کے حصول کے لیے انقلاب…
جنگ روکنے کا بہترین راستہ: ایرانی قوم کے مطالبات کو تسلیم کیا جائے
ایران میں حالیہ احتجاجات میں ہلاکتوں کی بڑی تعداد نے ایران کے عوام اور دنیا…
حالیہ احتجاجات میں عوام کے قتلِ عام کی مذمت اور شہداء کے خاندانوں سے ہمدردی…