بلوچ رہنما عطا اللہ مینگل کے ہمراہ میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے نواز شریف نے کہاکہ بلوچستان کے حالات کو یہاں تک پہنچانے والوں کا احتساب ہوگا جس میں اکبربگٹی کا قتل بھی شامل ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ بلوچستان کا مسئلہ میں پورے پاکستان میں لڑوں گا ان کے تعاون ہی سے ہم 8 ویں آئینی ترمیم منظور کرانے میں کامیاب ہوئے۔
انہوں نے مزید کہاکہ بلوچ نوجوانوں سے ان کے مسائل پربات کی جانی چاہیے۔
نوازشریف کا کہنا تھا کہ بلوچ رہنما عطااللہ مینگل کا اندار اور باہر ایک ساہے انہوں نے درست نکات اٹھائے ہیں جو کہ میرے دل کی آواز ہیں۔
بلوچ رہنما عطااللہ مینگل کا کہنا تھا کہ نواز شریف نے ہماری غلطیاں ہمیں یاد دلائیں جن کو دوہرایا نہیں جانا چاہیے جن کا خمیازہ بھی بھگتاہے۔
ان کا کہنا تھا کہ میں مانتاہوں کہ ڈاکٹر،مزدور اور دوسرے پیشوں سے تعلق رکھنے والوں کو پنجابی کہہ کر مارا جاتاہے۔
بلوچ رہنما کے مطابق کراچی اور خیبر پختونخوا میں بھی لوگ روزانہ مارے جاتے ہیں فوج اتنے سارے لوگوں کے قتل عام پر کوئی عمل کیوں نہیں دیکھاتی ہے۔
انہوں نے کہاکہ میاں صاحب فوج کو لگام دے سکتے ہیں اگر وہ کرسکتے تو سعودی عرب نہیں جاتے وہ فوج کو درست کرنے کی بات کریں تو بلوچستان آپ کے ساتھ ہے ورنہ جدا ہوجائےگا۔
عطااللہ مینگل کا کہناتھا کہ بلوچستان کی موجودہ صورتحال ناقابل واپسی ہے ۔
ان کا کہنا تھا کہ وفاقی وزیرداخلہ جس زبان میں گفتگو کرتاہے وہ ہمیں سمجھ نہیں آئی اسے معاملے کی نزاکت کا احساس نہیں۔
بلوچ رہنما کا کہنا تھاکہ بلوچستان کے نوجوانوں نے پاکستان سے علیحدگی کے حوالے سے سوچ لیاہے اسی وجہ سے وہ پہاڑوں پر چلے گئےہیں۔
ان کا کہنا تھاکہ بلوچ نوجوانوں کو پہاڑ پرپہنچانے کی ذمہ داری پاکستان کے فوجی اداروں پر عائد ہوتی ہے جنہوں نے بلوچستان کو مسخ شدہ لاشیں دیں ہیں۔
شیخ الاسلام مولانا عبدالحمید نے جمعہ بیس فروری کو زاہدان کی نماز جمعہ کے اجتماع…
جنوری کے واقعات کا کوئی جواز نہیں؛ حکام جواز پیش کرنے کے بجائے عوام سے…
ایرانی عوام نے سن 1979ء میں “انصاف” اور “بہتر زندگی” کے حصول کے لیے انقلاب…
جنگ روکنے کا بہترین راستہ: ایرانی قوم کے مطالبات کو تسلیم کیا جائے
ایران میں حالیہ احتجاجات میں ہلاکتوں کی بڑی تعداد نے ایران کے عوام اور دنیا…
حالیہ احتجاجات میں عوام کے قتلِ عام کی مذمت اور شہداء کے خاندانوں سے ہمدردی…