شیعہ ویب پورٹل ’’شیعہ آنلائن‘‘ نے سرکاری مرکز برائے مردم شماری کے ایک ’باخبر اور مستند‘ اعلی اہلکار کے حوالے سے رپورٹ شائع کی ہے کہ ایک مہینہ قبل ہونے والی مردم شماری سے معلوم ہوا ہے تہران شہر میں آباد سنی برادری کی تعداد دس لاکھ سے زائد ہے۔
فارسی زبان میں سرگرم ویب سائٹ نے مذکورہ خبر پر شدید غم وغصے کا اظہار کرتے ہوئے لکھاہے ’’عالم تشیع کے دارالحکومت میں دس لاکھ سے زائد سنی آباد!‘‘
یہ پہلی دفعہ ہے سرکاری حکام یہ بات تسلیم کرتے ہیں کہ تہران شہر میں دس لاکھ سے زائد سنی مسلمان رہتے ہیں، یہ تعداد صوبہ تہران کی کل آبادی کی دس فیصد بنتی ہے۔
شیعہ آنلائن کے مطابق سرکاری اہلکار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایاہے کہ بعض اعلی حکام اور سرکاری ادارے یہ خبر سن کر انتہائی پریشان اور حیرت زدہ ہوئے!
یاد رہے سرکاری سطح پر تہران میں سنی برادری کی بڑی تعداد کا انکار کیاجاتاہے، اس کے علاوہ لاکھوں تہرانی سنیوں کو مسجد تعمیر کرنے کی اجازت نہیں ہے۔ مجبورہوکر سنی شہری کرایے کے مکانات میں باجماعت نماز ادا کرتے ہیں۔ بعض اوقات خاص کر جمعہ و عیدین کے دنوں میں رکاوٹیں کھڑی کرکے انہیں باجماعت نماز کی ادائیگی سے روکاجاتاہے۔
سنی علمائے کرام و ارکان پارلیمنٹ کی مسجد کی تعمیر کیلیے قانونی چارہ جوئی کا کوئی مثبت نتیجہ اب تک سامنے نہیں آیا ہے۔
شیخ الاسلام مولانا عبدالحمید نے جمعہ بیس فروری کو زاہدان کی نماز جمعہ کے اجتماع…
جنوری کے واقعات کا کوئی جواز نہیں؛ حکام جواز پیش کرنے کے بجائے عوام سے…
ایرانی عوام نے سن 1979ء میں “انصاف” اور “بہتر زندگی” کے حصول کے لیے انقلاب…
جنگ روکنے کا بہترین راستہ: ایرانی قوم کے مطالبات کو تسلیم کیا جائے
ایران میں حالیہ احتجاجات میں ہلاکتوں کی بڑی تعداد نے ایران کے عوام اور دنیا…
حالیہ احتجاجات میں عوام کے قتلِ عام کی مذمت اور شہداء کے خاندانوں سے ہمدردی…