افغانستان میں تعینات غیر ملکی افواج کو دو ہزار چودہ میں واپس چلے جانا ہے لیکن نئے تجویز کردہ منصوبے کے مطابق امریکہ کے ساتھ دس سال پر محیط سکیورٹی معاہدہ کیا جائے گا۔ اس سے پہلے افغانستان کے صدرحامد کرزئی امریکہ کے ساتھ دس سالہ سٹریٹیجک تعاون پر بات چیت کے لیے قبائلی رہنمائوں اور عمائدین کی حمایت حاصل کرنے میں کامیاب ہو گئے ہیں۔
مجوزہ منصوبے کے تحت امریکی فوج دو ہزار چودہ میں دیگر بین القوامی افوج کے انخلا کے بعد بھی افغانستان میں رہے گی لیکن کابل میں ہوئے روایتی لویہ جرگے میں شامل مندوبین نے اس منصوبے کے لیے بعض شرائط رکھی ہیں۔
چار روزہ جرگے میں شامل مندوبین نے منصوبے کی حمایت کی ہے لیکن ان کی جانب سے پیش کی گئی شرائط کسی معاہدے تک پہنچنے میں رکاوٹ بھی بن سکتی ہیں۔ پہلے ہی اس مسئلے پر ہونے والے مذاکرات لگ بھگ ایک سال جاری تھے۔
جرگے کے مندوبین نے بین القوامی فوج کی جانب سے رات کے وقت کیے جانے والے حملوں کے خاتمے کا مطالبہ کیا جنہیں افغان نفرت کی نگاہ سے دیکھتے ہیں۔ دوسری جانب امریکی فوجی ایسے حملوں کو ناگزیر قرار دیتے ہیں۔
شیخ الاسلام مولانا عبدالحمید نے جمعہ بیس فروری کو زاہدان کی نماز جمعہ کے اجتماع…
جنوری کے واقعات کا کوئی جواز نہیں؛ حکام جواز پیش کرنے کے بجائے عوام سے…
ایرانی عوام نے سن 1979ء میں “انصاف” اور “بہتر زندگی” کے حصول کے لیے انقلاب…
جنگ روکنے کا بہترین راستہ: ایرانی قوم کے مطالبات کو تسلیم کیا جائے
ایران میں حالیہ احتجاجات میں ہلاکتوں کی بڑی تعداد نے ایران کے عوام اور دنیا…
حالیہ احتجاجات میں عوام کے قتلِ عام کی مذمت اور شہداء کے خاندانوں سے ہمدردی…