Categories: مشرق وسطی

قاہرہ کے تحریر اسکوائر میں پولیس اور مظاہرین میں جھڑپیں

قاہرہ (خبررساں ادارے) مصر کے دارالحکومت قاہرہ کے آزادی چوک میں پولیس کی مظاہرین کے ساتھ جھڑپیں ہوئی ہیں اور پولیس نے دھرنا دینے والے مبارک مخالف تحریک کے زخمیوں کو وہاں سے اٹھا دیا ہے۔
مصر کے سرکاری خبررساں ادارے مڈل ایسٹ نیوز ایجنسی (مینا) نے اطلاع دی ہے کہ پولیس نے ہفتے کو علی الصباح دھرنا ختم کرانے کے لیے کارروائی شروع کی تھی۔سابق صدر حسنی مبارک کے خلاف عوامی احتجاجی تحریک کے دوران سکیورٹی فورسز کی کارروائیوں میں مارے گئے افراد کے لواحقین اور زخمیو ں نے گذشتہ کئی روز سے آزادی چوک میں دھرنا دے رکھا تھا اور گذشتہ روز کے مظاہرے کے بعد اور بھی بیسیوں افراد ان کے ساتھ شامل ہوگئے تھے۔
فرانسیسی خبررساں ادارے اے ایف پی کے نمائندے نے اطلاع دی ہے کہ پولیس اور کم سے کم دوسو مظاہرین کے درمیان جھڑپیں ہوئی ہیں جس کے دوران پولیس اہلکاروں نے ان افراد کو لاٹھیوں سے تشدد کا نشانہ بنایا ہے۔ایک سکیورٹی عہدے دار کا کہنا ہے کہ پولیس نے متعدد مظاہرین کو گرفتار کرلیا ہے۔
دھرنا دینے والے افراد کا مطالبہ تھا کہ حسنی مبارک مخالف اٹھارہ روزہ تحریک کے دوران مارے گئے افراد پر تشدد اور کریک ڈاؤن میں ملوث پولیس اہلکاروں اور حکام کے خلاف عدالتوں میں تیز رفتاری سے مقدمات چلائے جائیں۔
سابق صدر حسنی مبارک ،ان کے وزیرداخلہ اور سکیورٹی اداروں کے سربراہوں کے خلاف کم سے کم ساڑھے آٹھ سو افراد کے قتل کے احکامات جاری کرنے کے الزامات میں مقدمات چلائے جارہے ہیں۔
گذشتہ روز اسلامی جماعتوں اور کابینہ کے درمیان آئینی ترامیم پر کوئی اتفاق رائے نہ ہونے پرانتالیس سے زیادہ سیاسی ،مذہبی اورسماجی گروپوں کے زیراہتمام ایک بڑی ریلی نکالی گئی تھی جس میں ہزاروں افراد نے شرکت کی تھی۔اس موقع انھوں نے حکمراں فوجی کونسل کے خلاف سخت نعرے بازی کی تھی۔مصر کی سب سے منظم اور طاقتور جماعت اخوان المسلمون نے اس ریلی میں بڑے بھرپور انداز میں شرکت کی ہے حالانکہ وہ اس سے پہلے فوجی حکومت کے ساتھ محاذ آرائی سے گریز کرتی رہی ہے۔
مصر کی مسلح افواج کی سپریم کونسل گیارہ فروری کو حسنی مبارک کے استعفے کے بعد سے برسراقتدار ہے اور اس کا کہنا ہے کہ وہ صدارتی انتخابات کے انعقاد کے بعد اقتدار منتخب حکومت کے حوالے کردے گی لیکن ابھی تک صدارتی انتخابات کے شیڈول کا اعلان نہیں کیا گیا ہے۔
مسلح افواج کی سپریم کونسل کے تحت عبوری حکومت نے آئینی ترامیم کا ایک نیا مسودہ تیار کیا ہے جس میں ایسی شقیں بھی شامل کی گئی ہیں جن کے تحت فوج کے بجٹ پر پارلیمان میں بحث نہیں کی جاسکے گی اور اس کے داخلی امور سے متعلق قوانین کے بارے میں فوج ہی کو حتمی رائے کا حق حاصل ہوگا۔ نئی آئینی ترامیم کا مسودہ گذشتہ ماہ نائب وزیراعظم علی السلمی نے سیاسی جماعتوں کے لیڈروں کو دکھایا تھا جس کے بعد سے وہ سراپا احتجاج بنے ہوئے ہیں۔
مصر کی سیاسی جماعتیں اور انقلابی گروپ فوجی کونسل سے اقتدار منتخب حکومت کے حوالے کرنے کے لیے ایک واضح نظام الاوقات دینے اور اپریل 2012ء میں صدارتی انتخابات کرانے کا مطالبہ کررہے ہیں۔واضح رہے کہ مصر میں پارلیمانی انتخابات کے پہلے مرحلے کے لیے اٹھائیس نومبر کو ووٹ ڈالے جائیں گے لیکن اگر سیاسی جماعتوں اور فوجی کونسل کے درمیان مجوزہ آئینی ترامیم پر کوئی تصفیہ نہیں ہوتا تو ان انتخابات کے انعقاد میں رکاوٹیں حائل ہوسکتی ہیں۔

modiryat urdu

Recent Posts

کوئی بھی «جنگ» کی تمنا نہ کرے / جنگ کی روک تھام حکام کے ہاتھ میں ہے

شیخ الاسلام مولانا عبدالحمید نے جمعہ بیس فروری کو زاہدان کی نماز جمعہ کے اجتماع…

3 months ago

جنوری کے واقعات کا کوئی جواز نہیں؛ حکام جواز پیش کرنے کے بجائے عوام سے معافی مانگیں اور ان کے مطالبات تسلیم کریں

جنوری کے واقعات کا کوئی جواز نہیں؛ حکام جواز پیش کرنے کے بجائے عوام سے…

4 months ago

ایرانی عوام نے سن 1979ء میں “انصاف” اور “بہتر زندگی” کے حصول کے لیے انقلاب کیا

ایرانی عوام نے سن 1979ء میں “انصاف” اور “بہتر زندگی” کے حصول کے لیے انقلاب…

4 months ago

جنگ روکنے کا بہترین راستہ: ایرانی قوم کے مطالبات کو تسلیم کیا جائے

جنگ روکنے کا بہترین راستہ: ایرانی قوم کے مطالبات کو تسلیم کیا جائے

4 months ago

ایران میں حالیہ احتجاجات میں ہلاکتوں کی بڑی تعداد نے ایران کے عوام اور دنیا کو ’’حیرت زدہ اور مبہوت‘‘ کر دیا

ایران میں حالیہ احتجاجات میں ہلاکتوں کی بڑی تعداد نے ایران کے عوام اور دنیا…

4 months ago

حالیہ احتجاجات میں عوام کے قتلِ عام کی مذمت اور شہداء کے خاندانوں سے ہمدردی کا اظہار کرتے ہیں

حالیہ احتجاجات میں عوام کے قتلِ عام کی مذمت اور شہداء کے خاندانوں سے ہمدردی…

5 months ago