امریکی محکمۂ دفاع کے مطابق میجر جنرل پیٹر فلر، افغان سکیورٹی فورسز کے تربیتی مشن کے ڈپٹی کمانڈر تھے اور انہیں افغانستان میں امریکی فوج کے کمانڈر جنرل جون ایلن نے برطرف کیا ہے۔
تاحال یہ واضح نہیں کہ میجر جنرل فلر مستعفی ہوں گے یا ریٹائرمنٹ لیں گے۔
امریکی محکمۂ دفاع کے ترجمان جارج لٹل نے صحافیوں سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’وزیرِ دفاع کو اس معاملے میں جنرل ایلن کے فیصلے پر مکمل اعتماد ہے‘۔
میجر جنرل فلر نے ایک اخبار کو دیے گئے انٹرویو میں کہا تھا کہ صدر حامد کرزئی ابہام کا شکار ہیں اور حقیقت پسند نہیں ہیں، اس لیے افغانستان کو ایک ایسے رہنما کی ضرورت ہے جو زیادہ واضح اور با صلاحیت ہو۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ امریکی فوج کی جانب سے افغانستان میں دی گئی قربانیوں کو سینئر افغان اہلکار مکمل طور پر تسلیم نہیں کرتے۔
افغانستان میں تعینات ایساف فوج کے اعلٰی کمانڈر امریکی جنرل جون ایلن نے کہا ہے کہ جنرل فلر کا یہ بیان امریکہ اور افغانستان کے مضبوط تعلقات کی عکاسی نہیں کرتا بلکہ یہ ان کے ذاتی خیالات ہیں۔
یہ پہلا موقع نہیں ہے کہ کسی افغانستان میں تعینات کسی امریکی جنرل کو ہٹایا گیا ہو۔
اس سے قبل جولائی سنہ 2010 میں امریکی صدر براک اوباما نے اس وقت کے ایساف اور امریکی کمانڈر جنرل سٹینلے میککرسٹل کو خود صدر اوباما اور ان کے ساتھیوں پر تنقیدی انٹرویو دینے کے بعد انہیں ہٹا دیا تھا۔
شیخ الاسلام مولانا عبدالحمید نے 31 جولائی 2026ء کے خطبہ جمعہ میں مشرقِ وسطیٰ میں…
"عدل و انصاف کی ترویج"، "متحرک معیشت"، اور "عوام کی رضامندی" حکومتوں کی بقا کا…
زاہدان میں 17 جولائی 2026 کو نماز جمعہ کے اجتماعات کے دوران شیخ الاسلام مولانا…
"مذاکرات اور بات چیت" ملک کو بچانے کا بہترین طریقہ ہے
غزہ میں جنگ بندی کے باوجود اسرائیلی حملوں کا سلسلہ جاری ہے۔
شیخ الاسلام مولانا عبدالحمید نے زاہدان میں نماز جمعہ تین جولائی 2026ء کے خطبے کے…