اُنھوں نے یہ بات پاکستان کے نجی ٹی وی چینل ’جیو نیوز‘ کو کابل میں دیے گئے ایک انٹرویو میں کہی جو ہفتہ کی شب نشر ہوا۔
افغان صدر کا کہنا تھا کہ بیرونی حملے کی صورت میں اگر پاکستانی عوام کو افغانوں کی مدد درکار ہوئی تو وہ افغانستان کو اپنے ساتھ پائیں گے۔’’خدا ناخواستہ اگر پاکستان اور امریکہ کے درمیان جنگ چھڑتی ہے تو ہم (افغانستان) پاکستان کے ساتھ کھڑے ہوں گے۔‘‘
پاکستان پر سرحد پار حملوں کے حالیہ الزامات اور امریکی وزیر خارجہ ہلری کلنٹن کے گزشتہ ہفتے دورہ کابل کے دوران افغانستان اور امریکہ کے اتحاد کی تجدید کے بعد صدر کرزئی کا تازہ ترین بیان بیشتر افراد کے لیے حیرت کا باعث بنا ہے۔
پاکستان اور امریکہ کے درمیان براہ راست جنگ کے بظاہر کوئی امکانات نہیں، گو کہ دونوں ملکوں کے درمیان تعلقات گزشتہ کئی ماہ سے انتہائی کشیدہ ہیں لیکن اسلام آباد اور واشنگٹن میں اعلیٰ حکام اس تناؤ کو دور کرنے کی مسلسل کوشش کر رہے ہیں۔
ہلری کلنٹن نے جمعہ کو اسلام آباد میں پاکستانی قائدین سے ملاقاتوں کے بعد ہم منصب حنا ربانی کھر کے ساتھ ایک مشترکہ نیوز کانفرنس میں دوطرفہ تعلقات کو افغانستان میں امن کی کوششوں اور خطے کے استحکام کے لیے انتہائی اہم قرار دیا تھا۔ مبصرین کا خیال ہے کہ امریکی وزیر خارجہ کے دورے سے پاکستان اور امریکہ کے تعلقات میں کشیدگی کم ہوئی ہے۔
مکہ مکرمہ: حرمین میں لگی سنگ مرمر کی ٹائلوں کی نمائش کا اہتمام
ماہ رنگ بلوچ اور صبغت اللہ کو دو دو مرتبہ عمر قید کی سزا
مفاہمتی معاہدے پر دستخط سے ایرانی عوام خوش ہیں / ایک خوشحال اور بہتر ایران…
کوئی بھی کتاب قرآن جتنی اثرانگیز نہیں ہے / قرآن حق اور سعادت کے چاہنے…
زاہدان اور نواحی علاقوں کے علما، ائمہ مساجد اور قرآنی کارکنان کا ایک مشاورتی اجلاس…
مولانا مفتی محمدقاسم بنیکمال (قاسمی) کا نئے ہجری سال 1448 کے آغاز پر پیغام