جنوبی ایران: سنی برادری کی جائیدادوں پرحکومتی قبضے کی تنقید

بندرلنگہ (سنی آن لائن) جنوب ایران میں واقع بندرلنگہ کے شیعہ خطیب نے سنی برادری کی جائیدادوں پر قبضہ اور ان کے ترقیاتی منصوبوں کی بندش کے حوالے سے حکومت پر سخت تنقید کی۔
ایک مقامی نیوز ویب سائٹ، ’’ہرمزگان نیوز‘‘ کے مطابق شیخ رکنی، خطیب اہل تشیع بندرلنگہ نے ’’سنٹر برائے حضرت امام چارٹر ‘‘ کے ارکان پر تنقید کرتے ہوئے کہا: مجھے ان افراد کے بارے میں کچھ نہیں معلوم، یہ لوگ اپنی طرف سے بلاوجہ اہل سنت کی جائیدادوں پر قبضہ کرتے ہیں اور ان کے بعض ترقیاتی منصوبوں کو روکتے ہیں۔
’کیا اس شہر میں کوئی قانون نہیں ہے؟ کن بنیادوں پر یہ افراد لوگوں کی جائیدادوں پر قبضہ جماتے ہیں اور ان کے ترقیاتی منصوبوں کو بند کرتے ہیں؟‘ مسٹر رکنی نے سوال اٹھایا۔
یاد رہے ’’سنٹر برائے حضرت امام چارٹر‘‘ 1989ء میں سابق ایرانی لیڈر آیت اللہ خمینی کے آرڈر پر تاسیس ہوئی جس کا کام آئین کے آرٹیکل 49 کا نفاذ تھا۔ اس آرٹیکل کے مطابق سابق رجیم کے پہلوی خاندان کے متعلقین کی جائیدادوں کو حکومتی مصارف کیلیے مقبوضہ بنایاجائے۔

modiryat urdu

Recent Posts

کوئی بھی «جنگ» کی تمنا نہ کرے / جنگ کی روک تھام حکام کے ہاتھ میں ہے

شیخ الاسلام مولانا عبدالحمید نے جمعہ بیس فروری کو زاہدان کی نماز جمعہ کے اجتماع…

3 months ago

جنوری کے واقعات کا کوئی جواز نہیں؛ حکام جواز پیش کرنے کے بجائے عوام سے معافی مانگیں اور ان کے مطالبات تسلیم کریں

جنوری کے واقعات کا کوئی جواز نہیں؛ حکام جواز پیش کرنے کے بجائے عوام سے…

4 months ago

ایرانی عوام نے سن 1979ء میں “انصاف” اور “بہتر زندگی” کے حصول کے لیے انقلاب کیا

ایرانی عوام نے سن 1979ء میں “انصاف” اور “بہتر زندگی” کے حصول کے لیے انقلاب…

4 months ago

جنگ روکنے کا بہترین راستہ: ایرانی قوم کے مطالبات کو تسلیم کیا جائے

جنگ روکنے کا بہترین راستہ: ایرانی قوم کے مطالبات کو تسلیم کیا جائے

4 months ago

ایران میں حالیہ احتجاجات میں ہلاکتوں کی بڑی تعداد نے ایران کے عوام اور دنیا کو ’’حیرت زدہ اور مبہوت‘‘ کر دیا

ایران میں حالیہ احتجاجات میں ہلاکتوں کی بڑی تعداد نے ایران کے عوام اور دنیا…

4 months ago

حالیہ احتجاجات میں عوام کے قتلِ عام کی مذمت اور شہداء کے خاندانوں سے ہمدردی کا اظہار کرتے ہیں

حالیہ احتجاجات میں عوام کے قتلِ عام کی مذمت اور شہداء کے خاندانوں سے ہمدردی…

5 months ago