ایک مقامی نیوز ویب سائٹ، ’’ہرمزگان نیوز‘‘ کے مطابق شیخ رکنی، خطیب اہل تشیع بندرلنگہ نے ’’سنٹر برائے حضرت امام چارٹر ‘‘ کے ارکان پر تنقید کرتے ہوئے کہا: مجھے ان افراد کے بارے میں کچھ نہیں معلوم، یہ لوگ اپنی طرف سے بلاوجہ اہل سنت کی جائیدادوں پر قبضہ کرتے ہیں اور ان کے بعض ترقیاتی منصوبوں کو روکتے ہیں۔
’کیا اس شہر میں کوئی قانون نہیں ہے؟ کن بنیادوں پر یہ افراد لوگوں کی جائیدادوں پر قبضہ جماتے ہیں اور ان کے ترقیاتی منصوبوں کو بند کرتے ہیں؟‘ مسٹر رکنی نے سوال اٹھایا۔
یاد رہے ’’سنٹر برائے حضرت امام چارٹر‘‘ 1989ء میں سابق ایرانی لیڈر آیت اللہ خمینی کے آرڈر پر تاسیس ہوئی جس کا کام آئین کے آرٹیکل 49 کا نفاذ تھا۔ اس آرٹیکل کے مطابق سابق رجیم کے پہلوی خاندان کے متعلقین کی جائیدادوں کو حکومتی مصارف کیلیے مقبوضہ بنایاجائے۔
رسولِ اکرم ﷺ کا میلاد «نور و رحمت کا میلاد» اور «انسانیت پر اللہ تعالیٰ…
صوبے اور ملک میں انتہاپسندی سے کوئی نتیجہ حاصل نہیں ہوا اور نہ ہی ہوگا؛…
سنی بلوچ علما کے خلاف بڑھتے ہوئے سکیورٹی دباؤ اور تعاقب کے درمیان گزشتہ دنوں…
سیستان و بلوچستان کے ایک اعلیٰ عہدیدار کے اشتعال انگیز بیانات پر علما، قبائل اور…
زم زم کا پانی روئے زمین پر اللہ تعالیٰ کی عظیم الشان اور لا زوال…
غزہ میں درجنوں فلسطینی صحافیوں نے پیر کے روز الجزیرہ چینل سے وابستہ اپنے 6…