Categories: پاکستان

شمالی وزیرستان سے ملحق افغان سرحد کو امریکی فوجیوں نے سیل کر دیا

اسلام آباد(ڈوئچے ویلے) افغانستان میں موجود سینکڑوں امریکی فوجیوں نے پاکستان کے قبائلی علاقے شمالی وزیرستان سے متصل پاک افغان سرحد کو مکمل طور پر بند کر دیا ہے۔
شمالی وزیرستان سے موصولہ اطلاعات کے مطابق امریکی فوج نے افغان صوبے خوست کو شمالی وزیرستان کے سرحدی گاؤں غلام خان سے ملانے والی مرکزی شاہراہ کو بھی بند کر رکھا ہے۔ شمالی وزیرستان میں موجود پاکستان کے عسکری ذرائع بھی اس امریکی اقدام کی تصدیق کر رہے ہیں تاہم پاکستان کی جانب سے سرکاری طور پر ابھی تک اس پیشرفت پر کسی قسم کا بیان سامنے نہیں آیا۔
مقامی ذرائع ابلاغ نے بھی غلام خان کے رہائشیوں کے حوالے سے بتایا ہےکہ امریکی فوجیوں نے ہفتے اور اتوار کی درمیانی شب افغان علاقے میں پہاڑیوں کی چوٹیوں پر قبضہ کر کے وہاں چوکیاں قائم کر لی ہیں۔ دفاعی تجزیہ کار حسن عسکری نے امریکہ کی جانب سے افغان سرحد کو سیل کرنے کے اقدام پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا، ’’یہ اقدام امریکہ کی اس نئی پالیسی کی عکاسی کرتا ہے، جو چند دنوں سے انہوں نے شروع کی ہے۔ ایک تو یہ ہے کہ ڈرون حملے وہ استعمال کریں گے، اس کے ساتھ ساتھ وہاں اپنی فوجی سرگرمی اس لیے بڑھائی ہے کہ شمالی وزیرستان میں جو حقانی گروپ ہے، اس پر دباؤ بڑھایا جائے اور سرحد کے آر پار آمد و رفت کو روکا جائے اس سلسلے میں وہ تلاشیاں بھی لے رہے ہیں۔‘‘
خیال رہے کہ امریکہ کی جانب سے یہ اقدام ایک ایسے وقت میں اٹھایا گیا ہے، جب شمالی وزیرستان میں موجود حقانی نیٹ ورک کے خلاف کارروائی کے لیے پاکستان پر زبردست دباؤ ہے تاہم پاکستان کا موقف یہ رہا ہے کہ حقانی نیٹ ورک پاکستان نہیں بلکہ افغانستان میں سرگرم عمل ہے۔ افغانستان میں پاکستان کے سابق سفیر رستم شاہ مہمند کا کہنا ہے، ’’بظاہر امریکہ نے سرحد کو سیل کرنے کا فیصلہ اُنہی پاکستانی بیانات کے بعد کیا ہے، جس میں حقانی نیٹ ورک کی پاکستان میں موجودگی سے مسلسل انکار کیا گیا۔‘‘
رستم شاہ سے جب یہ پوچھا گیا کہ اگر امریکہ طالبان شدت پسندوں کا پیچھا کرتے ہوئے پاکستانی علاقوں میں داخل ہوا تو اس کا کیا ردعمل ہو سکتا ہے تو انہوں نے کہا، ’’اگر امریکہ زمینی کارروائی کرے گا تو پھر سیاسی قیادت تو شاید زیادہ رد عمل ظاہر نہ کرے لیکن فوج اس کا نوٹس لے گی اور وہ مجبور ہو جائے گی کہ جو نیٹو کی سپلائی لائن ہے، اس کو منقطع کر دے اور یہاں پر پاکستانی فورسز کو مرتکز کیا جائے اور امریکہ کو بتا دیا جائے کہ اگر اسی طرح صورتحال جاری رہی تو پاکستانی فوج یہاں سے دستبردار ہونے پر مجبور ہوجائے گی۔ پھر ساری ذمہ داری نیٹو کی افواج پر ہوگی۔‘‘
دریں اثناء پاکستانی فوج کے ترجمان میجر جنرل اطہر عباس نے کہا ہے کہ پاکستان نے افغانستان اور امریکہ قیادت سے بارہا کہا ہے کہ وہ پاکستانی طالبان کے مفرور کمانڈر مولوی فضل اللہ کے خلاف کارروائی کریں لیکن اب تک کوئی کارروائی نہیں کی گئی ہے۔
ترجمان نے برطانوی خبر رساں ایجنسی کے ساتھ ایک انٹرویو میں کہا ہے کہ فضل اللہ کے جنگجو افغانستان کی جانب قائم اپنی پناہ گاہوں سے کئی مرتبہ سرحد پر دراندازی کر تے ہوئے تقریباً 100 پاکستانی سکیورٹی اہلکاروں کو ہلاک کر چکے ہیں اور یہ مسئلہ بدستور برقرار ہے۔

modiryat urdu

Recent Posts

کوئی بھی «جنگ» کی تمنا نہ کرے / جنگ کی روک تھام حکام کے ہاتھ میں ہے

شیخ الاسلام مولانا عبدالحمید نے جمعہ بیس فروری کو زاہدان کی نماز جمعہ کے اجتماع…

3 months ago

جنوری کے واقعات کا کوئی جواز نہیں؛ حکام جواز پیش کرنے کے بجائے عوام سے معافی مانگیں اور ان کے مطالبات تسلیم کریں

جنوری کے واقعات کا کوئی جواز نہیں؛ حکام جواز پیش کرنے کے بجائے عوام سے…

4 months ago

ایرانی عوام نے سن 1979ء میں “انصاف” اور “بہتر زندگی” کے حصول کے لیے انقلاب کیا

ایرانی عوام نے سن 1979ء میں “انصاف” اور “بہتر زندگی” کے حصول کے لیے انقلاب…

4 months ago

جنگ روکنے کا بہترین راستہ: ایرانی قوم کے مطالبات کو تسلیم کیا جائے

جنگ روکنے کا بہترین راستہ: ایرانی قوم کے مطالبات کو تسلیم کیا جائے

4 months ago

ایران میں حالیہ احتجاجات میں ہلاکتوں کی بڑی تعداد نے ایران کے عوام اور دنیا کو ’’حیرت زدہ اور مبہوت‘‘ کر دیا

ایران میں حالیہ احتجاجات میں ہلاکتوں کی بڑی تعداد نے ایران کے عوام اور دنیا…

4 months ago

حالیہ احتجاجات میں عوام کے قتلِ عام کی مذمت اور شہداء کے خاندانوں سے ہمدردی کا اظہار کرتے ہیں

حالیہ احتجاجات میں عوام کے قتلِ عام کی مذمت اور شہداء کے خاندانوں سے ہمدردی…

5 months ago