اس پیش رفت کے بعد انقلابی فوجیوں اور قذافی نواز مسلح جنگجوٶں کے درمیان ایک ہفتے سے بند لڑائی دوبارہ شروع ہو گئی جبکہ قذافی کے حامیوں نے سرت کے محاذ پر دوبارہ جوابی حملہ کر کے انقلابیوں کو وہاں سے پسپا ہونے پر مجبور کر دیا ہے۔
دارلحکومت طرابلس سے 170 کلومیٹر جنوب میں واقع بنی ولید فرنٹ کے کمانڈر موسیٰ یونس نے “اے ایف پی” کو بتایا کہ ایک رو پوش کرنل قذافی کے حامیوں اور انقلابی فوجیوں کے درمیان شہر میں لڑائی دوبارہ شروع ہو گئی ہے۔ ہمارے فوجی شمالی اور جنوبی محاذ پر پیش قدمی کر رہے ہیں۔
الزاویہ شہر کے ایک اور فیلڈ کمانڈر کا کہنا ہے کہ ان کی فوج بنی ولید کے جنوبی داخلی راستے پر پوزیشنز سنبھال رہی ہیں۔ دونوں جانب سے لڑائی میں بھاری توپخانے کا استعمال جاری ہے۔
عبوری قومی کونسل کے وفادار فوجیوں نے بنی ولید شہر کا ایک ماہ سے محاصرہ کر رکھا ہے جہاں قذافی کے پندرہ سو حامی ہتھیاربند ہوکر ان کا مقابلہ کررہے ہیں۔
نئی حکومت کی وفادارفوج کو گذشتہ ہفتے اس وقت ہوائی اڈے کے علاقے سے پسپائی کا سامنا کرنا پڑا جب ان کا رابطہ وہاں پرتعنیات یونٹوں سے منقطع ہو گیا۔ اس دوران ہونے والی لڑائی میں ایک دن کے اندر سترہ افراد ہلاک جبکہ اسی زخمی ہوگئے تھے۔
ایرانی عوام شدید ترین مہنگائی کا سامنا کر رہے ہیں؛ حکومت، پارلیمان اور نظامِ حاکمیت…
خراسان کے اہلِ سنت کا بارہواں فقہی مشاورتی اجلاس جمعرات کی صبح، 22 اکتوبر 2026ء…
ترکیہ اور آذربائیجان کے درمیان دیرینہ دوستانہ تعلقات میں تناؤ بڑھنے لگا ہے۔
فرانس کے وزیرِاعظم سیباستیان لیکورنو نے پیر کے روز مختلف علاقوں میں محدود پیمانے پر…
فیلڈ مارشل سید عاصم منیر اہم دورے پر ایرانی دارالحکومت تہران پہنچ گئے۔
جمہوریہ آذربائیجان کے اسکولوں میں حجاب پر پابندی جمہوریت کے اصولوں کے خلاف ہے؛ صدرِ…