اسلام آباد کی آبپارہ مارکیٹ میں ایک ہزار کے لگ بھگ افراد نے مظاہرہ کیا اور حکومت سے ملک ممتاز قادری کو فوری طور پر رہا کرنے کا مطالبہ کیا۔مظاہرے میں مذہبی جماعتوں کے کارکنان اور دینی مدارس کے طلبہ شریک تھے۔ان کا کہنا تھا کہ وہ ناموس رسالت صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے اپنی جانیں قربان کرنے کو تیار ہیں۔
اسلام آباد کے علاوہ راول پنڈی، لاہور، ملتان، کوئٹہ اور کراچی سمیت ملک کے دوسرے چھوٹے بڑے شہروں میں نماز جمعہ کے بعد ممتاز قادری کے حق میں ریلیاں نکالی گئیں۔ان شہروں میں مظاہرین نے سڑکیں بلاک کردیں اور ٹائر جلائے۔ بیس سے زیادہ دینی سیاسی جماعتوں نے نماز جمعہ کے بعد شہریوں سے احتجاجی ریلیوں میں شرکت اور دکانیں اور مارکیٹیں بند رکھنے کی اپیل کی تھی جس پر بعض شہروں میں جزوی ہڑتال دیکھنے میں آئی ہے۔ واضح رہے کہ پاکستان کے بیشتر شہروں اور قصبوں میں جمعہ کو کاروباری مراکز اور دکانیں بند ہوتی ہیں۔اس کے بجائے تاجر طبقہ اتوار کو سرکاری تعطیل کے دن اپنے کاروباری مراکز کو کھلا رکھتا ہے۔
راول پنڈی کی انسداد دہشت گردی کی خصوصی عدالت نے گذشتہ ہفتے کے روز ملک کے سب سے بڑے صوبہ پنجاب کے گورنر سلمان تاثیر کے مقدمہ قتل میں ملوث ممتاز قادری کو مجرم قرار دے کرانھیں دو مرتبہ سزائے موت سنائی تھی۔ عدالت نے اپنے فیصلے قرار دیا تھا کہ کسی شخص کو کسی بھی بنیاد پر کسی دوسرے شخص کو قتل کرنے کا حق نہیں دیا جا سکتا۔ پاکستانی قانون کے تحت ممتاز قادری کے وکلاء نے سزائے موت کے خلاف عدالت عالیہ لاہور میں جمعرات کو اپیل دائر کر دی ہے۔ وہاں سے اپیل رد ہونے کی صورت میں وہ عدالت عظمیٰ سے رجوع کر سکتے ہیں۔
گورنر کے محافظ دستے میں شامل ایلیٹ فورس کے اہلکار ممتاز قادری نے سلمان تاثیر کو 4 جنوری2011ء کو وفاقی دارالحکومت اسلام آباد کے پوش علاقے ایف سکس کی کوہسار مارکیٹ میں فائرنگ کر کے قتل کردیا تھا۔ چودہ فروری کو انسداد دہشت گردی کی خصوصی عدالت نے ملزم پر فرد جرم عاید کی تھی جبکہ ممتاز قادری نے اپنے جرم کا اقرار کیا تھا۔ مجرم نے اپنے اعترافی بیان میں کہا تھا کہ سلمان تاثیر نے توہین رسالت کے قانون کو “کالا قانون” کہا تھا۔اس لیے وہ موت کے حق دار تھے۔
پاکستان کے مختلف سیاسی قائدین نے گورنر پنجاب کے قتل کے واقعہ کی مذمت کی تھی۔تاہم مختلف مکاتب فکر کے علماء کی جانب سے ملاجلا ردعمل سامنے آیا تھا۔ بیشتر علماء کا کہنا تھا کہ سلمان تاثیر کے متنازعہ بیانات ہی ان کے قتل کا محرک بنے تھے۔زیادہ ترعلماء نے ان کے قتل کی مذمت نہیں کی تھی۔
واضح رہے کہ مقتول گورنراپنے متنازعہ بیانات کے لیے مشہور تھے اور انہوں نے توہین رسالت کے جرم میں سزائے موت پانے والی ایک عیسائی عورت آسیہ بی بی کی رہائی کی حمایت کی تھی۔وہ صوبہ پنجاب کی حکمران مسلم لیگ نوازکے قائدین کے خلاف تند و تیز بیانات دیتے رہتے تھے اور ان کی ان سے محاذ آرائی چلی آ رہی تھی۔ علماء اور دینی تنظیموں نے انہیں ان کے عہدے سے ہٹانے کا مطالبہ کیا تھا۔ بعض سرکردہ علماء نے مقتول گورنر کو متعدد مرتبہ سمجھانے کی کوشش کی تھی لیکن انہوں نے ان کی آوازوں پرکان نہیں دھرے تھے۔ اگست میں نامعلوم مسلح افراد نے سلمان تاثیر کے ایک بیٹے شہباز تاثیر کو اغوا کر لیا تھا اور آج تک ان کا سراغ نہیں لگ سکا۔
شیخ الاسلام مولانا عبدالحمید نے جمعہ بیس فروری کو زاہدان کی نماز جمعہ کے اجتماع…
جنوری کے واقعات کا کوئی جواز نہیں؛ حکام جواز پیش کرنے کے بجائے عوام سے…
ایرانی عوام نے سن 1979ء میں “انصاف” اور “بہتر زندگی” کے حصول کے لیے انقلاب…
جنگ روکنے کا بہترین راستہ: ایرانی قوم کے مطالبات کو تسلیم کیا جائے
ایران میں حالیہ احتجاجات میں ہلاکتوں کی بڑی تعداد نے ایران کے عوام اور دنیا…
حالیہ احتجاجات میں عوام کے قتلِ عام کی مذمت اور شہداء کے خاندانوں سے ہمدردی…