اطلاعات کے مطابق انتہاپسند یہودیوں نے اسرائیل کے شمال میں واقع وادی الجلیل میں عرب بدوٶں کے گاٶں طوبیٰ زنجریا میں رات مسجد پر حملہ کیا تھا جس کے نتیجے میں اللہ کے گھر کو شدید نقصان پہنچا ہے۔انتہاپسند حملہ آور جاتے ہوئے مسجد کی دیواروں پر ”بدلے” اور انتقام” کے الفاظ بھی لکھ گئے تھے۔
اسرائیلی پولیس نے مسجد پر حملے کو بہت خطرناک جوابی کارروائی قراردیا ہے۔ واضح رہے کہ مغربی کنارے میں قابض یہودی آباد کار فلسطینیوں اور ان کی املاک کو نقصان پہنچانے کے لیے ”بدلہ چکانے” کی پالیسی پر عمل پیرا ہیں اور وہ اسرائیلی حکومت کے اقدامات میں جواب میں فلسطینیوں پر انتقامی حملے کرتے رہتے ہیں.انھوں نے مسجد کو بھی تین یہودی آباد کاروں کے مکانوں کو اسرائیلی حکام کی جانب سے مسمار کیے جانے کے بعد نذرآتش کیا ہے۔
حملہ آوروں نے مسجد کی دیواروں پر ”پالمر”کا لفظ بھی لکھ دیا تھا جس سے ان کی مراد ایک یہودی آباد کار ایشر پالمر تھا جو 23 ستمبر کو مغربی کنارے کے جنوبی علاقے میں کار کے حادثے میں اپنے کم سن بچے سمیت مارا گیا تھا۔یہودیوں کا کہنا ہے کہ اس کی کار پر فلسطینیوں نے پتھراٶ کیا تھا جس کے نتیجے میں وہ حادثے کا شکار ہوگئی تھی۔
واضح رہے کہ یہودی آبادکار مقبوضہ مغربی کنارے میں گاہے گاہے فلسطینیوں کے خلاف اپنی حکومت کے اقدامات کے جواب میں حملے کرتے رہتے ہیں لیکن یہ دوسرا موقع ہے کہ انھوں نے وادی الجلیل میں عرب آبادی والے گاٶں میں مسجد پرحملہ کیا ہے۔گذشتہ سال اسی علاقے میں ایک اور گاٶں ابطین میں بھی اسی طرح کا حملہ کیا گیا تھا۔
اسرائیلی پولیس کے ترجمان میکی روزنفیلڈ کا کہنا ہے کہ رات طوبیٰ زنجریا میں مسجد پر حملے کے بعد وہاں کے مکین سیکڑوں فلسطینیوں نے سخت احتجاج کیا ہے۔انھوں نے ٹائر جلائے اور ایک شاہراہ کو بند کرنے کی کوشش کی۔مظاہرین نے پولیس کی جانب بھی پتھر پھینکے جبکہ پولیس نے انھیں منتشر کرنے کے لیے اشک آور گیس کا استعمال کیا ہے۔
اسرائیل کے شمالی ضلع کے پولیس کمانڈر رونی عطیہ نے حملے کو خطرناک انتقامی کارروائی قراردیا ہے اور اس کی تفتیش کے لیے ایک خصوصی تحقیقاتی ٹیم مقرر کی ہے۔انھوں نے علاقے کے مکینوں سے کہا ہے کہ وہ امن وامان برقرار رکھیں اور پولیس کو کسی گڑ بڑ کے بغیر واقعے کی تحقیقات کرنے دیں۔
اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو کے دفتر کی جانب سے جاری کردہ ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ ”واقعے کی تصاویر بہت ہی افسوسناک ہیں اور یہ فعل اسرائیلی اقدار کے منافی ہے کیونکہ ریاست اسرائیل مذہب اور عبادت کی آزادی کو بڑی اہمیت دیتی ہے”۔
اسرائیل کے داخلی سکیورٹی کے وزیر اضحاک احرنووچ نے واقعے کی شدید مذمت کی ہے۔انھوں نے ایک بیان میں کہا کہ ”مقدس مقامات پر حملہ تباہ کن اور شرمناک فعل ہے اور اس کو نظرانداز نہیں کیا جاسکتا”۔
شیخ الاسلام مولانا عبدالحمید نے جمعہ بیس فروری کو زاہدان کی نماز جمعہ کے اجتماع…
جنوری کے واقعات کا کوئی جواز نہیں؛ حکام جواز پیش کرنے کے بجائے عوام سے…
ایرانی عوام نے سن 1979ء میں “انصاف” اور “بہتر زندگی” کے حصول کے لیے انقلاب…
جنگ روکنے کا بہترین راستہ: ایرانی قوم کے مطالبات کو تسلیم کیا جائے
ایران میں حالیہ احتجاجات میں ہلاکتوں کی بڑی تعداد نے ایران کے عوام اور دنیا…
حالیہ احتجاجات میں عوام کے قتلِ عام کی مذمت اور شہداء کے خاندانوں سے ہمدردی…