Categories: مشرق وسطی

اسرائیل: انتہا پسند یہودیوں نے مسجد نذر آتش کر دی

مقبوضہ بیت المقدس(العربیہ ڈاٹ نیٹ، ایجنسیاں) اسرائیل کے شمالی علاقے وادی الجلیل میں انتہاپسند یہودی بلوائیوں نے ایک مسجد کو نذر آتش کر دیا ہے جس کے ردعمل میں وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو نے سخت ردعمل کا اظہار کیا ہے اور حملے کو اسرائیلی اقدار کے منافی قرار دیا ہے۔
اطلاعات کے مطابق انتہاپسند یہودیوں نے اسرائیل کے شمال میں واقع وادی الجلیل میں عرب بدوٶں کے گاٶں طوبیٰ زنجریا میں رات مسجد پر حملہ کیا تھا جس کے نتیجے میں اللہ کے گھر کو شدید نقصان پہنچا ہے۔انتہاپسند حملہ آور جاتے ہوئے مسجد کی دیواروں پر ”بدلے” اور انتقام” کے الفاظ بھی لکھ گئے تھے۔
اسرائیلی پولیس نے مسجد پر حملے کو بہت خطرناک جوابی کارروائی قراردیا ہے۔ واضح رہے کہ مغربی کنارے میں قابض یہودی آباد کار فلسطینیوں اور ان کی املاک کو نقصان پہنچانے کے لیے ”بدلہ چکانے” کی پالیسی پر عمل پیرا ہیں اور وہ اسرائیلی حکومت کے اقدامات میں جواب میں فلسطینیوں پر انتقامی حملے کرتے رہتے ہیں.انھوں نے مسجد کو بھی تین یہودی آباد کاروں کے مکانوں کو اسرائیلی حکام کی جانب سے مسمار کیے جانے کے بعد نذرآتش کیا ہے۔
حملہ آوروں نے مسجد کی دیواروں پر ”پالمر”کا لفظ بھی لکھ دیا تھا جس سے ان کی مراد ایک یہودی آباد کار ایشر پالمر تھا جو 23 ستمبر کو مغربی کنارے کے جنوبی علاقے میں کار کے حادثے میں اپنے کم سن بچے سمیت مارا گیا تھا۔یہودیوں کا کہنا ہے کہ اس کی کار پر فلسطینیوں نے پتھراٶ کیا تھا جس کے نتیجے میں وہ حادثے کا شکار ہوگئی تھی۔
واضح رہے کہ یہودی آبادکار مقبوضہ مغربی کنارے میں گاہے گاہے فلسطینیوں کے خلاف اپنی حکومت کے اقدامات کے جواب میں حملے کرتے رہتے ہیں لیکن یہ دوسرا موقع ہے کہ انھوں نے وادی الجلیل میں عرب آبادی والے گاٶں میں مسجد پرحملہ کیا ہے۔گذشتہ سال اسی علاقے میں ایک اور گاٶں ابطین میں بھی اسی طرح کا حملہ کیا گیا تھا۔
اسرائیلی پولیس کے ترجمان میکی روزنفیلڈ کا کہنا ہے کہ رات طوبیٰ زنجریا میں مسجد پر حملے کے بعد وہاں کے مکین سیکڑوں فلسطینیوں نے سخت احتجاج کیا ہے۔انھوں نے ٹائر جلائے اور ایک شاہراہ کو بند کرنے کی کوشش کی۔مظاہرین نے پولیس کی جانب بھی پتھر پھینکے جبکہ پولیس نے انھیں منتشر کرنے کے لیے اشک آور گیس کا استعمال کیا ہے۔
اسرائیل کے شمالی ضلع کے پولیس کمانڈر رونی عطیہ نے حملے کو خطرناک انتقامی کارروائی قراردیا ہے اور اس کی تفتیش کے لیے ایک خصوصی تحقیقاتی ٹیم مقرر کی ہے۔انھوں نے علاقے کے مکینوں سے کہا ہے کہ وہ امن وامان برقرار رکھیں اور پولیس کو کسی گڑ بڑ کے بغیر واقعے کی تحقیقات کرنے دیں۔
اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو کے دفتر کی جانب سے جاری کردہ ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ ”واقعے کی تصاویر بہت ہی افسوسناک ہیں اور یہ فعل اسرائیلی اقدار کے منافی ہے کیونکہ ریاست اسرائیل مذہب اور عبادت کی آزادی کو بڑی اہمیت دیتی ہے”۔
اسرائیل کے داخلی سکیورٹی کے وزیر اضحاک احرنووچ نے واقعے کی شدید مذمت کی ہے۔انھوں نے ایک بیان میں کہا کہ ”مقدس مقامات پر حملہ تباہ کن اور شرمناک فعل ہے اور اس کو نظرانداز نہیں کیا جاسکتا”۔

modiryat urdu

Recent Posts

کوئی بھی «جنگ» کی تمنا نہ کرے / جنگ کی روک تھام حکام کے ہاتھ میں ہے

شیخ الاسلام مولانا عبدالحمید نے جمعہ بیس فروری کو زاہدان کی نماز جمعہ کے اجتماع…

3 months ago

جنوری کے واقعات کا کوئی جواز نہیں؛ حکام جواز پیش کرنے کے بجائے عوام سے معافی مانگیں اور ان کے مطالبات تسلیم کریں

جنوری کے واقعات کا کوئی جواز نہیں؛ حکام جواز پیش کرنے کے بجائے عوام سے…

4 months ago

ایرانی عوام نے سن 1979ء میں “انصاف” اور “بہتر زندگی” کے حصول کے لیے انقلاب کیا

ایرانی عوام نے سن 1979ء میں “انصاف” اور “بہتر زندگی” کے حصول کے لیے انقلاب…

4 months ago

جنگ روکنے کا بہترین راستہ: ایرانی قوم کے مطالبات کو تسلیم کیا جائے

جنگ روکنے کا بہترین راستہ: ایرانی قوم کے مطالبات کو تسلیم کیا جائے

4 months ago

ایران میں حالیہ احتجاجات میں ہلاکتوں کی بڑی تعداد نے ایران کے عوام اور دنیا کو ’’حیرت زدہ اور مبہوت‘‘ کر دیا

ایران میں حالیہ احتجاجات میں ہلاکتوں کی بڑی تعداد نے ایران کے عوام اور دنیا…

4 months ago

حالیہ احتجاجات میں عوام کے قتلِ عام کی مذمت اور شہداء کے خاندانوں سے ہمدردی کا اظہار کرتے ہیں

حالیہ احتجاجات میں عوام کے قتلِ عام کی مذمت اور شہداء کے خاندانوں سے ہمدردی…

5 months ago