سابق صدر کے دوقریبی سیاستدانوں نے اپنی شناخت ظاہر نہ کرنے کی شرط پراس بات کی تصدیق کی ہے کہ برہان الدین ربانی اپنی رہائش گاہ پر خودکش حملے میں جاں بحق ہوئے ہیں۔کابل پولیس کے ترجمان حشمت ستنکزئی نے بھی ان کے جاں بحق ہونے کی تصدیق کردی ہے اور کہا ہے کہ بم دھماکے میں متعدد افراد زخمی ہوئے ہیں۔
اطلاعات کے مطابق خودکش بمبار نے کابل کے انتہائی سکیورٹی والے علاقے میں واقع پروفیسر ربانی کے مکان میں داخل ہوکر دھماکا کیا ہے۔اس علاقے میں ایک ہفتے میں یہ دوسرا بڑا حملہ ہے۔گذشتہ ہفتے کابل کے اسی علاقے میں واقع امریکی سفارت خانے اور دوسری عمارتوں پر طالبان مزاحمت کاروں نے حملہ کیا تھا۔بیس گھنٹے تک جاری رہے اس حملے میں ستائیس افراد مارے گئے تھے۔
اکتوبر2001ء سے افغانستان پر امریکا کی قیادت میں غیرملکی فوجوں کی چڑھائی کے بعد سے پروفیسر برہان الدین ربانی ملک کی سب سے سرکردہ شخصیت ہیں جنہیں خودکش حملے میں قتل کیا گیا ہے۔ان سے دوماہ قبل صدر حامد کرزئی کے سوتیلے بھائی احمد ولی کرزئی کو جنوبی صوبے قندھار میں ایک خودکش بم حملے میں ہلاک کردیا گیا تھا۔فوری طور پر کسی گروپ نے سابق افغان صدر پر خودکش حملے کی ذمے داری قبول نہیں لیکن طالبان نے حالیہ مہینوں میں افغانستان کے متعدد اعلیٰ عہدے داروں کو اپنے حملوں میں نشانہ بنایا ہے۔
پروفیسر برہان الدین ربانی 1992ء سے 1996ء تک افغانستان کے صدر رہے تھے۔ انھیں گذشتہ سال قائم کی گئی اعلیٰ امن کونسل کا سربراہ مقرر کیا گیا تھا اور صدر حامد کرزئی نے اس امن کونسل کو طالبان مزاحمت کاروں کے ساتھ مذاکرات کی ذمے داری سونپی تھی۔تاہم ابھی تک کونسل کے طالبان کے ساتھ مذاکرات میں کوئی نمایاں پیش رفت نہیں ہوسکی ہے۔
واضح رہے کہ ان کے دورصدارت میں افغانستان میں بدترین خانہ جنگی جاری رہی تھی اور ان کے حامی بعض کمانڈروں اور اس وقت کے وزیراعظم گلبدین حکمت یار کی جماعت حزب اسلامی کے جنگجووں کے درمیان کابل پر قبضے کے لیے خونریز جھڑپیں ہوئی تھیں جن میں ہزاروں افراد ہلاک اور ہزاروں کی تعداد میں بے گھر ہوگئے تھے۔انسانی حقوق کی تنظیم ہیومن رائٹس واچ نے پروفیسر ربانی اورسوویت یونین کے خلاف افغان جہاد کے زمانے کے دوسرے سرکردہ جنگی سرداروں کو نوے کے عشرے کے اوائل میں جنگی جرائم کا مرتکب ٹھہرایا تھا۔
شیخ الاسلام مولانا عبدالحمید نے جمعہ بیس فروری کو زاہدان کی نماز جمعہ کے اجتماع…
جنوری کے واقعات کا کوئی جواز نہیں؛ حکام جواز پیش کرنے کے بجائے عوام سے…
ایرانی عوام نے سن 1979ء میں “انصاف” اور “بہتر زندگی” کے حصول کے لیے انقلاب…
جنگ روکنے کا بہترین راستہ: ایرانی قوم کے مطالبات کو تسلیم کیا جائے
ایران میں حالیہ احتجاجات میں ہلاکتوں کی بڑی تعداد نے ایران کے عوام اور دنیا…
حالیہ احتجاجات میں عوام کے قتلِ عام کی مذمت اور شہداء کے خاندانوں سے ہمدردی…