اس کارروائی میں عطیہ المصراتی کے ہمراہ چار دوسرے مقامی افراد بھی لقمہ اجل بنے۔ ہلاک ہونے والے ان افراد کا تعلق افغان طالبان سے تعاون کرنے والے گل بہادر گروپ سے بتایا جاتا ہے۔
القاعدہ کے کمانڈر عطیہ المصراتی کے سر کی قیمت دس لاکھ امریکی ڈالرز مقرر تھی۔ اس کا حقیقی نام جمال ابراھیم اشتوی ہے۔ ان کا تعلق لیبیا کے شہر مصراتۃ سے ہے اور وہ پاکستان میں القاعدہ کے اہم کمانڈر تھے۔ یاد رہے کہ اسامہ بن لادن کی ہلاکت اور ڈاکٹر ایمن الظواہری کو ان کے جانشین مقرر کرنے کے بعد القاعدہ نے اپنے سیکنڈ ان کمان نے نام کا باقاعدہ اعلان نہیں کیا تھا۔
شیخ الاسلام مولانا عبدالحمید نے جمعہ بیس فروری کو زاہدان کی نماز جمعہ کے اجتماع…
جنوری کے واقعات کا کوئی جواز نہیں؛ حکام جواز پیش کرنے کے بجائے عوام سے…
ایرانی عوام نے سن 1979ء میں “انصاف” اور “بہتر زندگی” کے حصول کے لیے انقلاب…
جنگ روکنے کا بہترین راستہ: ایرانی قوم کے مطالبات کو تسلیم کیا جائے
ایران میں حالیہ احتجاجات میں ہلاکتوں کی بڑی تعداد نے ایران کے عوام اور دنیا…
حالیہ احتجاجات میں عوام کے قتلِ عام کی مذمت اور شہداء کے خاندانوں سے ہمدردی…