اس کارروائی میں عطیہ المصراتی کے ہمراہ چار دوسرے مقامی افراد بھی لقمہ اجل بنے۔ ہلاک ہونے والے ان افراد کا تعلق افغان طالبان سے تعاون کرنے والے گل بہادر گروپ سے بتایا جاتا ہے۔
القاعدہ کے کمانڈر عطیہ المصراتی کے سر کی قیمت دس لاکھ امریکی ڈالرز مقرر تھی۔ اس کا حقیقی نام جمال ابراھیم اشتوی ہے۔ ان کا تعلق لیبیا کے شہر مصراتۃ سے ہے اور وہ پاکستان میں القاعدہ کے اہم کمانڈر تھے۔ یاد رہے کہ اسامہ بن لادن کی ہلاکت اور ڈاکٹر ایمن الظواہری کو ان کے جانشین مقرر کرنے کے بعد القاعدہ نے اپنے سیکنڈ ان کمان نے نام کا باقاعدہ اعلان نہیں کیا تھا۔
ایرانی عوام شدید ترین مہنگائی کا سامنا کر رہے ہیں؛ حکومت، پارلیمان اور نظامِ حاکمیت…
خراسان کے اہلِ سنت کا بارہواں فقہی مشاورتی اجلاس جمعرات کی صبح، 22 اکتوبر 2026ء…
ترکیہ اور آذربائیجان کے درمیان دیرینہ دوستانہ تعلقات میں تناؤ بڑھنے لگا ہے۔
فرانس کے وزیرِاعظم سیباستیان لیکورنو نے پیر کے روز مختلف علاقوں میں محدود پیمانے پر…
فیلڈ مارشل سید عاصم منیر اہم دورے پر ایرانی دارالحکومت تہران پہنچ گئے۔
جمہوریہ آذربائیجان کے اسکولوں میں حجاب پر پابندی جمہوریت کے اصولوں کے خلاف ہے؛ صدرِ…