’’سنی آن لائن‘‘ کی رپورٹ کے مطابق تایباد شہر کے خطیب اور صوبے کے معروف و ممتاز عالم دین مولانا شیخ محمد فاضلی سات ماہ قبل 23جنوری 2011ء میں اس وقت گرفتار ہوئے جب انہیں مشہد شہر کی ’خاص عدالت برائے علماء‘ میں پیشی کیلیے بلایا گیا۔
مولانا محمدفاضلی کو اس سے قبل سولہ جنوری کو مذکورہ عدالت میں بلاکر تایباد کی سنی برادری کی خطابت سے جبری دستبرداری کیلیے دباؤ ڈالا گیا۔ اس دوران خفیہ ادارے کے ذمہ داراں مسلسل دباؤ ڈالتے رہے۔
یاد رہے مولانا فاضلی کا شمار صوبہ خراسان کے نامور و ممتاز سنی علمائے کرام میں ہوتا ہے جن کی عہدہ خطابت سے زبردستی برطرفی سے شہر میں پولیس اور مشتعل عوام کے درمیان جھڑپیں بھی ہوئی تھیں۔
اطلاعات کے مطابق گرفتار مولانا فاضلی کو سات مہینہ قید میں رکھنے کے بعد اکیس اگست 2011ء کو دس کروڑ تومان کی ضمانت پر مشہد سے رہا کردیاگیا۔
رسولِ اکرم ﷺ کا میلاد «نور و رحمت کا میلاد» اور «انسانیت پر اللہ تعالیٰ…
صوبے اور ملک میں انتہاپسندی سے کوئی نتیجہ حاصل نہیں ہوا اور نہ ہی ہوگا؛…
سنی بلوچ علما کے خلاف بڑھتے ہوئے سکیورٹی دباؤ اور تعاقب کے درمیان گزشتہ دنوں…
سیستان و بلوچستان کے ایک اعلیٰ عہدیدار کے اشتعال انگیز بیانات پر علما، قبائل اور…
زم زم کا پانی روئے زمین پر اللہ تعالیٰ کی عظیم الشان اور لا زوال…
غزہ میں درجنوں فلسطینی صحافیوں نے پیر کے روز الجزیرہ چینل سے وابستہ اپنے 6…