غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق جنوبی قندھار صوبے کے ترجمان زلمائی ایوبی نے بتایا کہ بارودی مواد سے مسلح طالبان جنگجوئوں نے ایک سپلائی ڈپو پر دھاوا بولا جس کا انتظام نیدر لینڈ میں قائم سپریم گروپ کے پاس ہے۔ یہاں سے فوج کو ایندھن فراہم کیا جاتا ہے۔
طالبان کے حملے میں سپلائی ڈپو کی سکیورٹی پر تعینات چار محافظ ہلاک ہوگئے اس دوران جھڑپ بھی ہوئی لیکن طالبان بحفاظت فرار ہونے میں کامیاب ہوگئے۔ فورسز نے علاقے کا گھیرائو کر کے سکیورٹی سخت کر دی ہے تاہم اتحادی فوج کی طرف سے کوئی بیان سامنے نہیں آیا ہے۔
یہ گزشتہ تین روز میں طالبان کی جانب سے تیسری کارروائی تھی۔ اس سے قبل پیر کو وسطی صوبے غزنی کے ایک ضلعی حکومت کے دفاتر پر حملہ کیا گیا جس میں وہاں فائرنگ کا تبادلہ ہوا۔ جس سے چار طالبان اور ایک پولیس اہلکار ہلاک ہوگیا۔ سکیورٹی فورسز کی جوابی کارروائی میں تین عام شہری بھی زخمی ہوگئے تھے۔ اس لڑائی سے ایک روز قبل صوبہ پروان میں گورنر ہائوس میں چھ خود کش حملوں میں بائیس افراد ہلاک ہوگئے تھے۔
امریکی قیادت میں 2001 میں افغانستان پر حملے کے بعد اس وقت تک وہاں بد ترین تشدد کے واقعات ہو رہے ہیں۔ جن میں ریکارڈ تعداد میں اتحادی فوجی اور افغان شہری مارے جا رہے ہیں ۔
شیخ الاسلام مولانا عبدالحمید نے 31 جولائی 2026ء کے خطبہ جمعہ میں مشرقِ وسطیٰ میں…
"عدل و انصاف کی ترویج"، "متحرک معیشت"، اور "عوام کی رضامندی" حکومتوں کی بقا کا…
زاہدان میں 17 جولائی 2026 کو نماز جمعہ کے اجتماعات کے دوران شیخ الاسلام مولانا…
"مذاکرات اور بات چیت" ملک کو بچانے کا بہترین طریقہ ہے
غزہ میں جنگ بندی کے باوجود اسرائیلی حملوں کا سلسلہ جاری ہے۔
شیخ الاسلام مولانا عبدالحمید نے زاہدان میں نماز جمعہ تین جولائی 2026ء کے خطبے کے…