لندن میں قائم شام آبزرویٹری برائے انسانی حقوق کے سربراہ رامی عبدالرحمان نے ہفتے کے روز بتایا ہے کہ شامی فوج بیس ٹینکوں اور بکتربند گاڑیوں کے ساتھ للذاقیہ کے علاقے الرمل میں داخل ہوئی ہے اور صبح ساڑھے دس بجے کے قریب اس علاقے سے شدید فائرنگ کی آوازیں سنائی دی ہیں۔
اس شہر میں صدر بشارالاسد کے خلاف گذشتہ کئی ہفتوں سے زبردست احتتجاجی مظاہرے کیے جارہے ہیں۔فوج کے داخلے کے بعد شہر کے مکینوں خاص طور پر بچوں اور خواتین کی بڑی تعداد کو وہاں سے نقل مکانی کرتے ہوئے دیکھا گیا ہے۔
وسطی صوبے حمص سے تعلق رکھنے والے ایک کارکن نے بتایا ہے کہ شامی فوجی دوٹینکوں کے ساتھ لبنان کی سرحد کے نزدیک واقع گاٶں جسیہ میں بھی حکومت مخالفین کے خلاف کارروائی کے لیے داخل ہوئے ہیں۔حمص کے ایک اور قصبے قصیر میں بھی شامی سکیورٹی فورسز اور انٹیلی جنس سروسز کے اہلکاروں نے گھر گھر تلاشی کی کارروائی جاری رکحی ہوئی ہے جس کے دوران متعدد افراد کو گرفتار کرلیا گیا ہے۔
شامی سکیورٹی فورسز مارچ کے وسط سے شہر شہر ،قصبہ قصبہ حکومت مخالفین کے خلاف کریک ڈاٶن کارروائیاں کررہی ہیں.آبزرویٹری کے مطابق کریک ڈاٶن کے دوران خواتین اور بچوں کو بھی نہیں بخشا جارہا ہے اور بشارالاسد کی حکومت کے خلاف احتجاج میں شریک مردوں کے غائب ہونے کی صورت میں ان کی خواتین کو گرفتار کیا جارہا ہے۔
گذشتہ روز شام کے مختلف شہروں میں نمازجمعہ کے بعد ہزاروں افراد نے صدر بشارالاسد کی حکومت کے خلاف مظاہرے کیے تھے جبکہ سکیورٹی فورسز نے حسب معمول مظاہرین پر فائرنگ اور کریک ڈاٶن کی کارروائیوں میں بیس افراد کو ہلاک کردیا تھا۔شام کے سرکاری ٹیلی وژن نے اطلاع دی ہے کہ دمشق کے نواحی علاقے الدوما میں مسلح افراد نے دو سکیورٹی ایجنٹوں کو گولی مار کر قتل کردیا ہے۔
درایں اثناء یہ اطلاع سامنے آئی ہے کہ آیندہ جمعرات کو اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کا اجلاس طلب کیا گیا ہے جس میں شام میں انسانی حقوق کی صورت حال پر غور کیا جائے گا اور اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کمشنر نیوی پلے اور اقوام متحدہ کے انڈر سیکرٹری برائے انسانی امور ولیری آموس کونسل کے ارکان کو بریفنگ دیں گے۔
امریکا اور دوسرے مغربی ممالک شام پر دباٶ ڈالنے کے لیے مزید تادیبی اقدامات پر غور کر رہے ہیں جبکہ امریکا کی وزیرخارجہ ہلیری کلنٹن نے دنیا کے ممالک پر زوردیا ہے کہ وہ شام کے ساتھ ہرطرح کے تجارتی تعلقات منقطع کر دیں۔ انھوں نے ایک ٹی وی انٹرویو میں شام کے ساتھ تیل اور اسلحے کی تجارت کرنے والے ممالک سے کہا کہ وہ یہ سلسلہ اب ختم کردیں اور تاریخ کی درست سمت میں آجائیں۔
انھوں نے چین اور بھارت پر خاص طور پر زوردیا کہ وہ شام پر توانائی کی پابندیاں عاید کریں اور روس سے مطالبہ کیا کہ وہ دمشق کے ساتھ اسلحے کی تجارت بند کردے۔ انھوں نے یورپی ممالک سے بھی مطالبہ کیا کہ وہ شام پر توانائی کی پابندیاں عاید کردیں۔
مسزکلنٹن نے ناروے کے وزیرخارجہ کے ساتھ مشترکہ نیوز کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ”صدر بشارالاسد اپنے ملک پر حکمرانی کا حق کھوچکے ہیں اور ان کے بغیر شام زیادہ بہتر مقام ہوگا”۔تاہم انھوں نے شامی صدر سے واضح طور پر اقتدار چھوڑنے کا مطالبہ نہیں کیا۔البتہ انھوں نے کہا کہ دمشق میں امریکی سفیر نے شامی وزیرخارجہ کے ساتھ ملاقات میں انھیں واضح طور پر پیغام پہنچا دیا ہے کہ جمہوریت نواز مظاہرین کے خلاف تشدد کے استعمال کا سلسلہ بند کیا جائے۔
شیخ الاسلام مولانا عبدالحمید نے جمعہ بیس فروری کو زاہدان کی نماز جمعہ کے اجتماع…
جنوری کے واقعات کا کوئی جواز نہیں؛ حکام جواز پیش کرنے کے بجائے عوام سے…
ایرانی عوام نے سن 1979ء میں “انصاف” اور “بہتر زندگی” کے حصول کے لیے انقلاب…
جنگ روکنے کا بہترین راستہ: ایرانی قوم کے مطالبات کو تسلیم کیا جائے
ایران میں حالیہ احتجاجات میں ہلاکتوں کی بڑی تعداد نے ایران کے عوام اور دنیا…
حالیہ احتجاجات میں عوام کے قتلِ عام کی مذمت اور شہداء کے خاندانوں سے ہمدردی…