قبل ازیں افغانستان میں امریکی اور نیٹو فورسز کے کمانڈر جنرل جان ایلن نے کہا تھا کہ امریکی ہیلی کاپٹر مار گرانے والے طالبان شدت پسندوں کو ہلاک کر دیا گیا ہے۔ جنرل جان ایلن نے کہا کہ نیٹو فورسز نے ان شدت پسندوں کو ایک کارروائی کے نتیجے میں ہلاک کیا، لیکن ان کے جس رہنما کو نشانہ بنانے کے لیے کارروائی کی گئی تھی، وہ ہلاک نہیں ہوا۔
انہوں نے یہ انکشاف ہیلی کاپٹر کی تباہی کے بارے میں بریفنگ کےے دوران کیا، جس میں امریکی فورسز کے تیس اہلکار ہلاک ہوئے تھے، جن میں سے بیشتر ایلیٹ نیوی سیلز تھے۔ افغانستان کی جنگ میں اسے امریکی فورسز کے لیے بدترین واقعہ قرار دیا جا رہا ہے۔ یہ واقعہ دارالحکومت کابل کی ایک جنوب مغربی وادی میں پیش آیا، جس میں آٹھ افغانی بھی ہلاک ہوئے۔
جنرل ایلن نے کہا کہ چھ اگست کے آپریشن میں جس طالبان رہنما کو نشانہ بنانا مقصود تھا، وہ ابھی تک مفرور ہے۔ انہوں نے کہا کہ نیٹو فورسز اس نیٹ ورک کا پیچھا جاری رکھیں گی۔
انہوں نے اس آپریشن کے لیے ایلیٹ ٹیم کو بھیجنے کے فیصلے کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ اس کارروائی میں طالبان کے اہم رہنما کو نشانہ بنایا جانا تھا، اس لیے فرار ہوتے ہوئے شدت پسندوں کا پیچھا کرنا اہم تھا۔
جنرل ایلن نے کابل سے پینٹا گون میں موجود صحافیوں سے ویڈیو کانفرنسنگ کے ذریعے خطاب میں کہا: ’’ہم نے بھاگتے ہوئے عناصر پر قابو پانے کے لیے فورس لگائی اور بلاشبہ اس مرحلے میں ان کے ہیلی کاپٹر کو آر پی جی لگا اور وہ تباہ ہو گیا۔‘‘جنرل جان ایلنجنرل جان ایلن
انہوں نے بتایا کہ اس کے بعد آٹھ اگست کو کیے گئے فضائی حملے میں ہیلی کاپٹر کو تباہ کرنے میں ملوث خیال کیے جانے والے دیگر طالبان انتہاپسند بھی ہلاک ہوئے۔ تاہم طالبان نے جنرل ایلن کے اس بیان کو فوری طور پر چیلنج کر دیا۔
نیٹو کی انٹرنیشنل سکیورٹی اسسٹنس فورس کا کہنا ہے کہ ہلاک ہونے والوں میں طالبان کا رہنما ملا محب اللہ اور ہیلی کاپٹر پر فائر کرنے والا شدت پسند بھی شامل ہے۔ ایساف کے مطابق یہ دونوں افغانستان چھوڑنے کی کوشش کر رہے تھے۔ امکان ظاہر کیا گیا کہ وہ ہمسایہ ملک پاکستان میں انتہاپسندوں کے کسی ٹھکانے تک پہنچنا چاہتے تھے۔
بم دھماکے اور جنگجوؤں کے حملے میں دس فوجی ہلاک
جنوبی افغانستان میں سڑک کنارے نصب ایک بم کے پھٹنے سے نیٹو فورسز کے پانچ فوجی ہلاک ہو گئے ہیں۔ نیٹو کی طرف سے ہلاک ہونے والے فوجیوں کے نام اور شہریت نہیں بتائی گئی ہے تاہم جنوبی افغانستان میں زیادہ تر برطانوی اور امریکی فوجی تعینات ہیں۔
صرف ایک مہینے میں ہلاک ہونے والے نیٹو فوجیوں کی تعداد 47 تک پہنچ گئی ہے۔ اس طرح رواں برس افغانستان میں ہلاک ہونے والے غیر ملکی فوجیوں کی تعداد کم از کم 387 ہو گئی ہے۔
دوسری جانب جنوبی افغانستان ہی کے صوبے ہلمند میں طالبان جنگجوؤں نے ایک چیک پوسٹ پر حملہ کرتے ہوئے پانچ افغان فوجیوں کو ہلاک کر دیا ہے۔ صوبائی پولیس سربراہ نے ان ہلاکتوں کی تصدیق کی ہے۔
شیخ الاسلام مولانا عبدالحمید نے جمعہ بیس فروری کو زاہدان کی نماز جمعہ کے اجتماع…
جنوری کے واقعات کا کوئی جواز نہیں؛ حکام جواز پیش کرنے کے بجائے عوام سے…
ایرانی عوام نے سن 1979ء میں “انصاف” اور “بہتر زندگی” کے حصول کے لیے انقلاب…
جنگ روکنے کا بہترین راستہ: ایرانی قوم کے مطالبات کو تسلیم کیا جائے
ایران میں حالیہ احتجاجات میں ہلاکتوں کی بڑی تعداد نے ایران کے عوام اور دنیا…
حالیہ احتجاجات میں عوام کے قتلِ عام کی مذمت اور شہداء کے خاندانوں سے ہمدردی…