شام میں پھیلتے ہوئے تشدد کے واقعات پرتین ماہ سے زائد عرصے سے جاری تعطل اور خاموشی کے بعد سلامتی کونسل نے بدھ کو ایک صدارتی بیان جاری کیا ہے۔ بیان جاری کرنے کے لیے کونسل کے سارے کے سارے 15 ارکان کی متفقہ توثیق لازم ہے، تاہم اِسے ایک مکمل قرارداد جتنا مؤثر نہیں سمجھتا جاتا۔
شام کے ہمسایہ اور ایک قریبی اتحادی ملک لبنان نے بیان کو روکنے کی کوشش نہیں کی، تاہم اُس کے متن میں شامل نہیں رہا۔ یہ معاملہ ایسے میں سامنے آیا ہے جب شام کی فوج نے اپنا ظالمانہ ریاستی تشدد جاری رکھا ہے اور اُس کے ٹینک اور فوج حماہ کےشورش زدہ شہر میں داخل ہو گئے ہیں۔
انسانی حقوق کے سرگرم کارکنوں اور عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ وسطی چوک میں ٹینکوں کے داخل ہوتے ہی زوردار دھماکے ہوئے، جہاں احتجاجی مظاہرین کی طرف سے بشار الاسد کے استعفے کے مطالبے ہو رہے ہیں۔ اُنہوں نے بتایا کہ اتوار سے اب تک شام میں 130 سے زائد لوگ ہلاک ہو چکے ہیں، جب حکومت نے ریاستی تشدد میں اضافہ کیا تھا۔ زیادہ تر ہلاکتیں حماہ شہر میں ہوئیں ہیں۔
داریں اثناء شام کے حکومتی میڈیا نے بتایا ہے کہ ملک کی پیپلز اسمبلی کا اتوار کو اجلاس ہوگا، جِس میں شہریوں کے مفادات اور ملک سے متعلق امور پر بحث کی جائے گی۔
ایرانی عوام شدید ترین مہنگائی کا سامنا کر رہے ہیں؛ حکومت، پارلیمان اور نظامِ حاکمیت…
خراسان کے اہلِ سنت کا بارہواں فقہی مشاورتی اجلاس جمعرات کی صبح، 22 اکتوبر 2026ء…
ترکیہ اور آذربائیجان کے درمیان دیرینہ دوستانہ تعلقات میں تناؤ بڑھنے لگا ہے۔
فرانس کے وزیرِاعظم سیباستیان لیکورنو نے پیر کے روز مختلف علاقوں میں محدود پیمانے پر…
فیلڈ مارشل سید عاصم منیر اہم دورے پر ایرانی دارالحکومت تہران پہنچ گئے۔
جمہوریہ آذربائیجان کے اسکولوں میں حجاب پر پابندی جمہوریت کے اصولوں کے خلاف ہے؛ صدرِ…