امریکا نے سلامتی کونسل میں دو قراردادیں پیش کیں جنھیں متفقہ طور پر منظور کرلیا گیا۔ پہلی قرارداد کے مطابق القاعدہ اور طالبان رہنماؤں کی الگ الگ بلیک لسٹ بنائی جائے گی، پہلی فہرست ان لوگوں اور تنظیموں کی بنائی جائے گی جن پر القاعدہ کے ساتھ تعلق کا الزام ہوگا۔ جب کہ دوسری فہرست ان لوگوں اور تنظیموں کی بنائی جائے گی جن پرطالبان کیساتھ تعلق کا شبہ ہوگا۔
اس فہرست کی تیاری کے ذریعے مغربی ممالک یہ واضح کرنا چاہتے تھے کہ القاعدہ اور طالبان کے ایجنڈے ایک دوسرے سے مختلف ہیں ،دہشت گردی کیخلاف پابندی سے متعلق سلامتی کونسل کی کمیٹی کے سربراہ جرمن سفیر پیٹر وٹیگ نے کہا کہ اس کا ایک مقصد افغان حکومت کی مفاہمت کی پالیسی کیلئے حمایت کا اظہار کرنا بھی ہے۔
شیخ الاسلام مولانا عبدالحمید نے 31 جولائی 2026ء کے خطبہ جمعہ میں مشرقِ وسطیٰ میں…
"عدل و انصاف کی ترویج"، "متحرک معیشت"، اور "عوام کی رضامندی" حکومتوں کی بقا کا…
زاہدان میں 17 جولائی 2026 کو نماز جمعہ کے اجتماعات کے دوران شیخ الاسلام مولانا…
"مذاکرات اور بات چیت" ملک کو بچانے کا بہترین طریقہ ہے
غزہ میں جنگ بندی کے باوجود اسرائیلی حملوں کا سلسلہ جاری ہے۔
شیخ الاسلام مولانا عبدالحمید نے زاہدان میں نماز جمعہ تین جولائی 2026ء کے خطبے کے…