بی بی سی نے صدر صالح کے قریبی ذرائع کے حوالے سے اطلاع دی ہے کہ حملے کے نتیجے میں 6۔7سینٹی میٹر لمبا ایک ٹکڑا صدر کے سینے میں پیوست ہوگیا اور ان کی چھاتی اور چہرے کو بھی نقصان پہنچا ہے۔
سعودی حکام نے بھی یمنی صدر کی اپنے ملک میں آمد کی تصدیق کی ہے۔ہفتے کو پورا دن صدرصالح کے بارے میں مختلف قیاس آرائیاں گردش کرتی رہی ہیں اور یہ کہا جاتا رہا ہے کہ وہ زخموں کی تاب نہ لاکر دم توڑ گئے ہیں۔
اس دوران یہ اطلاع بھی منظرعام پر آئی ہے کہ یمنی حکومت اور حزب اختلاف نے خلیج تعاون کونسل کی ثالثی میں حال ہی میں پیش کیے گئے انتقال اقتدار کے فارمولے کی منظوری دے دی ہے جبکہ سعودی ذرائع نے بتایا ہے کہ سعودی عرب نے طاقتور قبائلی لیڈر شیخ صادق الاحمر اور صدر صالح کی وفادار فورسز کے درمیان جنگ بندی کا نیا معاہدہ طے کرایا ہے۔
ایک قبائلی ترجمان کا کہنا ہے کہ ان کا گروپ جنگ بندی معاہدے کی پاسداری کررہا ہے۔یمنی سکیورٹی فورسز اور قبائلیوں کے درمیان گذشتہ ہفتے جنگ بندی کا معاہدہ طے پایا تھا لیکن ایک روز کے بعد ہی متحارب فریقوں کے درمیان جھڑپیں شروع ہوگئی تھیں۔
قبل ازیں یمن کے وزیراعظم علی محمد مجاور اور چار دوسرے سنئیر عہدے داروں کو علاج کے لیے سعودی عرب منتقل کردیا گیا ہے۔ وہ بھی گذشتہ روزدارالحکومت صنعا میں صدارتی محل پر حکومت مخالف قبائلیوں کے حملے میں زخمی ہوگئے تھے۔
یمنی حکام کے مطابق ”حملے میں زخمی صدر علی عبداللہ صالح کوصنعا کے ایک فوجی اسپتال میں داخل کرایا گیا تھا جہاں ان کی حالت بہتر ہے اور تشویش کی کوئی بات نہیں”۔قبل ازیں میڈیا اطلاعات میں بتایا گیا تھا کہ یمنی صدر بھی علاج کے لیے سعودی عرب روانہ ہوگئے ہیں لیکن ایک سعودی عہدے دار نے ان افواہوں کی تردید کی تھی۔
اس عہدے دار نے اپنی شناخت ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ صدر صالح ابھی تک یمن ہی میں ہیں اور وہ ملک چھوڑنے کا کوئی ارادہ نہیں رکھتے۔البتہ وزیراعظم علی مجاور، پارلیمان کے سربراہ یحییٰ الرائی ،مشاورتی کونسل کے سربراہ عبدالعزیزعبدالغنی اورامورداخلہ کے لیے نائب وزیراعظم صادق امین ابوراس کو خصوصی طیارے کے ذریعے سعودی عرب لایا گیا ہے۔
یمنی کی سرکاری خبررساں ایجنسی سبا کی اطلاع کے مطابق صدر صالح کے قریب سمجھے جانے والے ایک اور نائب وزیراعظم جنرل رشاد العلیمی حملے میں شدید زخمی ہوئے ہیں اور انھیں بھی علاج کے لیے سعودی عرب منتقل کردیا گیا ہے۔
میڈیکل حکام نے بتایا ہے کہ حملے میں صنعا کے گورنر نعمان دویک کا ایک بازو اور ایک ٹانگ ضائع ہوگئی ہے اور وہ اس وقت یمنی دارالحکومت کے ایک اسپتال میں تشویشناک حالت میں زیرعلاج ہیں۔
حکمراں جنرل پیپلز کانگریس کے ایک عہدے دار نے بتایا کہ صدر صالح کو سر میں معمولی زخم آئے ہیں۔یمنی صدر نے جمعہ کی رات سرکاری ٹیلی وژن پر نشر ہونے والے ایک آڈیو بیان میں کہا تھا کہ”ان کی صحت اچھی ہے اور وہ بہتر ہیں”۔انھوں نے کہا کہ بمباری میں سات افراد مارے گئے ہیں۔
یمنی حکومت نے حزب اختلاف سے تعلق رکھنے والے طاقتور قبائلی سردار شیخ صادق الاحمر کے حامی جنگجوٶں پر صدارتی محل پر حملے کا الزام عاید کیا ہے۔صنعا کے مختلف علاقوں میں گذشتہ منگل سے سرکاری سکیورٹی فورسز اور شیخ احمر کے حامی مسلح قبائلیوں کے درمیان لڑائی ہورہی ہے جس میں اب تک کم سے کم ایک سو افراد مارے جا چکے ہیں۔حزب اختلاف اور مسلح قبائلی صدر علی عبداللہ صالح سے اقتدار چھوڑنے کا مطالبہ کررہے ہیں لیکن وہ ایسا کرنے کو تیار نہیں جس کی وجہ سے یمن میں اب صورت حال روزبروز بگڑتی جارہی ہے۔
شیخ الاسلام مولانا عبدالحمید نے جمعہ بیس فروری کو زاہدان کی نماز جمعہ کے اجتماع…
جنوری کے واقعات کا کوئی جواز نہیں؛ حکام جواز پیش کرنے کے بجائے عوام سے…
ایرانی عوام نے سن 1979ء میں “انصاف” اور “بہتر زندگی” کے حصول کے لیے انقلاب…
جنگ روکنے کا بہترین راستہ: ایرانی قوم کے مطالبات کو تسلیم کیا جائے
ایران میں حالیہ احتجاجات میں ہلاکتوں کی بڑی تعداد نے ایران کے عوام اور دنیا…
حالیہ احتجاجات میں عوام کے قتلِ عام کی مذمت اور شہداء کے خاندانوں سے ہمدردی…