مصراتہ میں لڑائی
ادھر لیبیا کے تیسرے بڑے شہر مصراتہ میں باغی جنگجووں اور سرکاری فوج کے درمیان ہوائی اڈے کا کنٹرول حاصل کرنے کے لیے لڑائی جاری ہے۔اس سے پہلے باغیوں نے مصراتہ کی بندرگاہ سے سرکاری فوج کو پیچھے دھکیلنے کا دعویٰ کیا تھا ہے۔سرکاری فوج شہر میں باغیوں کے ٹھکانوں پر توپخانے سے گولہ باری کر رہی ہے اوراس نے راکٹ بھی فائر کیے ہیں۔
ایک باغی جنگجو ابراہیم احمد بوشغہ کا کہنا ہے کہ”چار ٹینکوں نے مصراتہ شہر پر حملہ کیا تھا۔ان میں سے ایک کو تباہ کردیا گیا ہے۔سرکاری فوجیوں نے جمعہ کی رات کے وقت ائیرپورٹ روڈ کی جانب پوزیشنیں سنبھال کر شہر میں داخل ہونے کی کوشش کی تھی لیکن ہم نے ان کی پیش قدمی روک دی ہے”۔
قبل ازیں لیبی حکومت نے خبردار کیا کہ مصراتہ بندرگاہ میں داخل ہونے والے کسی بھی جہاز پر حملہ کردیا جائے گا۔لیبیا کے سرکاری ٹیلی وژن کی اطلاع کے مطابق فوج نے بندرگاہ پر کام بند کرادیا ہے اس لیے مصراتہ کے لیے تمام انسانی امداد اب زمینی راستے سے اور مسلح افواج کی نگرانی میں بھیجی جائے۔
مصراتہ اسپتال کے ایک ڈاکٹر نے بتایا ہے کہ کرنل قذافی کے فوجیوں نے اگلے مورچوں کے نزدیک واقع مظاہرین کے ٹھکانے پرتوپخانے سے بھاری گولہ باری کی اور راکٹ پھینکے جس سے مزید پانچ افراد ہلاک اور دس زخمی ہوگئے ہیں۔
مصراتہ پرکنٹرول کے لیے صدر قذافی کی وفادار فوج اوراس کے مخالف باغی جنگجوٶں کے درمیان گذشتہ سوادوماہ سے لڑائی ہوری ہے اورسرکاری فوج نےاس شہر کا محاصرہ کررکھا ہے۔ گذشتہ ہفتے قذافی حکومت نے مصراتہ سے اپنے فوجی واپس بلانے کا اعلان کیا تھا اورکہا تھا کہ اس شہر کا کنٹرول مقامی قبائل کے حوالے کردیا جائے گا اورانہیں بات چیت یا طاقت کے استعمال کے ذریعے تنازعے کے حل کا اختیار حاصل ہوگا لیکن اس اعلان کے باوجود لیبی فوجی وہاں موجودہیں اور ان کی باغیوں کے ساتھ جھڑپیں ہورہی ہیں۔ غیرملکی خبررساں ایجنسیوں اور مقامی لوگوں کے مطابق اس شہر میں جاری لڑائی میں اب تک سیکڑوں افراد ہلاک ہوچکے ہیں اور شہریوں کو اشیائے ضروریہ کی قلت کا سامنا ہے۔
شیخ الاسلام مولانا عبدالحمید نے جمعہ بیس فروری کو زاہدان کی نماز جمعہ کے اجتماع…
جنوری کے واقعات کا کوئی جواز نہیں؛ حکام جواز پیش کرنے کے بجائے عوام سے…
ایرانی عوام نے سن 1979ء میں “انصاف” اور “بہتر زندگی” کے حصول کے لیے انقلاب…
جنگ روکنے کا بہترین راستہ: ایرانی قوم کے مطالبات کو تسلیم کیا جائے
ایران میں حالیہ احتجاجات میں ہلاکتوں کی بڑی تعداد نے ایران کے عوام اور دنیا…
حالیہ احتجاجات میں عوام کے قتلِ عام کی مذمت اور شہداء کے خاندانوں سے ہمدردی…