دبئی(العربیہ ڈاٹ نیٹ)شام کی سکیورٹی فورسز نے سوموار کو علی الصباح جنوبی شہر درعا کا چاروں اطراف سے محاصرہ کرکے صدربشارالاسد مخالف مظاہرین کے خلاف ایک بڑی کارروائی شروع کی ہے جس کے بعد شہر سے زوردار دھماکوں اور فائرنگ کی آوازیں سنائی دیں۔اس کارروائی میں مزید پچیس مظاہرین ہلاک ہوگئے ہیں جبکہ شام نے اردن کے ساتھ واقع اپنی سرحد بند کردی ہے۔
شامی سکیورٹی فورسز کی کارروائی کے بعد درعا شہر کا ملک کے دوسرے علاقوں سے لینڈ لائن کے ذریعے مواصلاتی رابطہ منقطع ہو گیا۔برطانوی خبر رساں ادارے “رائیٹرز” کے مطابق سکیورٹی فورسز نے دارالحکومت دمشق کے قریب دوما پر بھی ہلہ بولا ہے۔ ابتدائی اطلاعات کے مطابق درعا البلد اور درعا المحیطہ میں پانچ افراد ہلاک ہوگئے ہیں۔
درعا کے نزدیک واقع قصبے نوی میں بھی جمعہ کے روز ہلاک ہونے والوں کی تدفین کے موقع پر سکیورٹی فورسز اور جنازے کے شرکاء کے درمیان تصادم کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں۔عینی شاہدین اور انسانی حقوق کے کارکنوں نے بتایا ہے کہ درعا میں سکیورٹی فورسز اور حکومت مخالفین کے درمیان لڑائی شدت اختیار کرتی جارہی ہے۔
درعا میں شام کی خصوصی سکیورٹی فورسز اور فوج کے درمیان جھڑپوں کی بھی اطلاعات ملی ہیں لیکن العربیہ کو ان اطلاعات کی دمشق میں سرکاری حکام کی جانب سے تصدیق نہیں ہوسکی۔شامی سکیورٹی فورسز نے درعا میں حکومت کے خلاف مظاہروں کا مرکز مسجد العمری کے نزدیک مرکزی شاہراہ اور اس کے نواح میں آٹھ ٹینک اور دوبکتربند گاڑیاں کھڑی کررکھی تھیں۔
شام کی انسانی حقوق کی ایک تنظیم کا کہنا ہے کہ ساحلی قصبے جبلہ میں اتوار سے سکیورٹی فورسز نے اپنی کارروائیوں میں تیرہ شہریوں کو ہلاک کردیا ہے۔اس قصبے میں شامی صدر کے خلاف عوامی بغاوت کے بعد سے سکیورٹی فورسز اور حکومت کے حامی مسلح افراد کو تعینات کیا گیا ہے۔
ایک عینی شاہد نے فرانسیسی خبر رساں ادارے “اے ایف پی” سے بات کرتے ہوئے کہا کہ سکیورٹی اداروں کے مشاق نشانہ بازوں نے جبلۃ کی سڑکوں پراس وقت اندھا دھند فائرنگ کی جب اللاذقیہ کے نئے گورنر عبدالقادر محمد الشیخ نے شہر کا دورہ کیا تاکہ اس شہر کے باسیوں کے مطالبات کے بارے میں جان سکیں۔ اس فائرنگ سے ایک شخص ہلاک جبکہ بیسوں زخمی ہو گئے۔ عینی شاہد نے صورتحال کو کشیدہ قرار دیا ہے۔
گذشتہ جمعہ کو الدوما،وسطی شہر حمص اور دوسرے علاقوں میں صدر بشارالاسد کے خلاف ریلیوں میں شریک ہزاروں افراد کو منتشر کرنے کے لیے سکیورٹی فورسز کے اہلکاروں نے براہ راست فائرنگ کردی تھی جس کے نتیجے میں کم سے کم ایک سو افراد ہلاک اور بیسیوں زخمی ہوگئے تھے۔
انسانی حقوق کی عالمی تنظیم ہیومن رائٹس واچ نے شام میں تشدد کے واقعات کی آزادانہ تحقیقات کرانے کا مطالبہ کیا ہے۔تنظیم کا کہنا ہے کہ سکیورٹی فورسز کے جو بھی اہلکار تشدد کے واقعات میں ملوث ہیں،ان کے خلاف مقدمات چلائے جانے چاہئیں۔
شام میں گذشتہ چھے ہفتوں سے صدر بشارالاسد کی حکومت کے خلاف مظاہرے کیے جارہے ہیں اورانہیں اپنے گیارہ سالہ دور حکمرانی میں پہلی مرتبہ اس وقت شدید بحران کا سامنا ہے۔ صدراسد کے مخالف مظاہرین ان سے اقتدار چھوڑنے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔شام میں حالیہ ہفتوں کے دوران مظاہرین کے خلاف سکیورٹی فورسز کے کریک ڈاون کے نتیجے میں ساڑھے تین سو سے زیادہ افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔
اردن کے ساتھ سرحد کی بندش
شام کے جنوبی سرحدی شہر درعا میں جمہوریت نواز انتفاضہ کو کچلنے کے لیے ٹینکوں کے استعمال کی خبروں کے بعد دمشق نے سوموار کے روز اردن کے ساتھ اپنی سرحد بند کر دی ہے۔
اردن کے دارالحکومت عمان میں ایک سینئر سفارتکار نے تصدیق کی ہے کہ شام نے درعا اور ناسیب کے مقام پر اپنی سرحدی حدود میں ٹریفک بند کر دی ہے۔اردن کے وزیر اطلاعات طاہر عدوان نے بھی سرحد کی بندش کی تصدیق کی ہے لیکن ایک شامی ٹی وی چینل نے اپنے ملک کے کسٹمز ڈائریکٹر کے حوالے سے سرحدبند کرنے کی اطلاع کو بے بنیاد قراردیا ہے۔
اردن کے وزیراطلاعات نے ایک غیرملکی خبررساں ادارے کو بتایا کہ سرحد بند کرنے کی کارروائی کا تعلق علاقے میں حکومت مخالف مظاہرین کے خلاف جاری بڑے سیکیورٹی آپریشن اور شام کی داخلی صورت حال سے ہے۔
واضح رہے کہ درعا کے مکینوں کے چند کلومیٹر دورواقع سرحد کے دوسری جانب اردن میں رہنے والے قبائل کے ساتھ تعلقات ہیں۔یہ بھی اطلاعات منظرعام پر آئی ہیں کہ عینی شاہدین اردنی شہریوں کے سیل فونز کو استعمال کرکے غیرملکی میڈیا کو شامی سکیورٹی فورسز کی چیرہ دستیوں اور وہاں کی صورت حال سے آگاہ کررہے ہیں۔