رچرڈ گولڈ اسٹون کا موقف
دوسری جانب عالمی ادارے کی انسانی حقوق کمیٹی کے چیئرمین رچرڈ گولڈ اسٹون نے امریکی اخبار “واشنگٹن پوسٹ” کو ایک انٹرویو میں کہا ہے کہ غزہ جنگ کے دوران اسرائیل کے جنگی جرائم کے بارے میں ا بھی ان کے پاس بہت کچھ بتانے کو باقی ہے۔
اپنے ایک حالیہ انٹرویو میں انہوں نے کہا کہ اسرائیل کے غزہ پر حملے اور 22 روز تک جاری رہنے والی جنگ کے بارے میں کئی ایسے راز موجود ہیں جو منظر عام پر نہیں آئے۔اسرائیل نے اقوام متحدہ میں گولڈ اسٹون کی مخالفت جاری رکھی تو وہ ایک دوسری رپورٹ جاری کریں گے جس میں وہ تمام معلومات جنہیں پہلی رپورٹ میں چھوڑ دیا گیا تھا شامل کیا جائے گا۔
ایک دوسرے سوال کے جواب میں مسٹر گولڈ اسٹون نے کہا کہ اسرائیلی حکام زبانی طور پر غزہ جنگ میں جنگی جرائم کے ارتکاب کے منکر ہیں تاہم گولڈ اسٹون رپورٹ کے منظر عام پر انے کے کئی ماہ بعد بھی تل ابیب دنیا کے سامنے ہمارے موقف کو غلط ثابت نہیں کر سکا۔ ہم نے ثابت کیا کہ اسرائیلی فوج دوران جنگ بے گناہوں پر گولہ باری کرتی رہی ہے۔
رچرڈ گولڈ اسٹون کا کہنا ہےکہ غزہ جنگ کے دوران جنگی جرائم میں ملوث ہونے کے ثبوت صرف انہوں نے پیش نہیں کیے بلکہ خود اسرائیلی عدالتوں میں جنگی جرائم کے ارتکاب کے 400 واقعات رجسٹرڈ کرائے گئے۔ انہوں نے کہا کہ گولڈ اسٹون رپورٹ حماس اور اسرائیل دونوں کو جنگی جرائم میں ذمہ دار سمجھتی ہے، تاہم اسرائیل نے جنگ کا دائرہ اس لیے بڑھا دیا کیونکہ حماس نے یہودی کالونیوں پر”ہاون” طرز کے راکٹ حملوں کی تحقیقات سے انکار کر دیا تھا۔
"مذاکرات اور بات چیت" ملک کو بچانے کا بہترین طریقہ ہے
غزہ میں جنگ بندی کے باوجود اسرائیلی حملوں کا سلسلہ جاری ہے۔
شیخ الاسلام مولانا عبدالحمید نے زاہدان میں نماز جمعہ تین جولائی 2026ء کے خطبے کے…
دنیا کا ہر حساس فرد غزہ پر اسرائیلی جارحیت پر مضطرب ہے، نصف صدی قبل…
معروف عالم مولانا سید سلمان حسینی ندوی کا انتقال، علمی دنیا سوگوار