Categories: پاکستان

پاکستان کی وفاقی کابینہ مستعفی

اسلام آباد(بی بی سی) پاکستان کی وفاقی کابینہ کے اراکین نے بدھ کو اپنے استعفے وزیراعظم کو پیش کردیئے ہیں اور وزیر اعظم صدرِ پاکستان کی مشاورت سے جلد نئی کابینہ کا اعلان کریں گے۔

کابینہ کا اجلاس وزیراعظم کی صدارت میں ہوا جس میں انہوں نے کہا کہ موجودہ کابینہ کا یہ آخری اجلاس ہے۔
اسلام آباد میں بی بی سی کے نامہ نگار اعجاز مہر کا کہنا ہے کابینہ میں وفاقی وزراء، وزراء مملکت، وزیراعظم کے مشیر اور وفاقی وزیر کے درجے والی شخصیات کی تعداد اسی کے قریب تھی اور تقریباً تین برسوں میں اس کے پچہتر اجلاس منعقد ہوئے۔
ان کےمطابق اٹھارویں آئینی ترمیم کے تحت وزیر اعظم کو زیادہ سے زیادہ انچاس وفاقی اور مملکتی وزیر اور پانچ مشیر رکھنے کا اختیار ہے۔
حکمران پاکستان پیپلز پارٹی کی مرکزی مجلس عاملہ کے اجلاس میں چند روز قبل وفاقی کابینہ تحلیل کرنے کا فیصلہ ہوا تھا۔ یہ فیصلہ پاکستان کے خراب اقتصادی صورتحال میں حکومتی اخراجات میں کمی کے سلسلے میں حزب مخالف کی مسلم لیگ (ن) کے ساتھ قومی اقتصادی ایجنڈا تشکیل دینے کے بارے میں بات چیت کے بعد طے پایا۔
وزیراعظم سید یوسف رضا گیلانی نے تمام وزراء کی کارکردگی کو سراہا اور اپنی حکومت کی تقریباً تین سالہ کارکردگی پر اطمینان کا اظہار کیا۔ ’پہلی بار برآمدات بڑھی ہیں، زر مبادلہ کے ذخائر سترہ ارب ڈالر ہیں، ریکارڈ حد تک بیرون ممالک سے پاکستانیوں نے سرمایہ ملک بھیجا ہے اور سٹاک مارکیٹ میں حکومت سنبھالنے کے بعد سے پانچ ہزار پوائنٹس کا اضافہ ہوا ہے‘۔
انہوں نے کہا کہ حکومت نے متفقہ طور پر مرکز اور صوبوں میں مالی وسائل کی تقسیم کا فارمولہ ’این ایف سی ایوارڈ‘ دیا، گلگت بلتستان کے شہریوں کو سیاسی حقوق ملے، بلوچستان کے لیے پیکیج دیا اور دہشتگردی کے خلاف جنگ میں عوامی حمایت حاصل کی۔
وزیراعظم سید یوسف رضا گیلانی نے مزید کہا کہ انیس سو تہتر کے آئین کو اصل شکل میں بحال کیا، اٹھارویں اور انیسویں آئینی ترامیم متفقہ طور پر منظور کروائیں گے انہوں نے مزید کہا کہ اس حکومت میں صوبائی خودمختاری پر عمل ہو رہا ہے۔
حکومتی ذرائع نے بتایا ہے کہ وزیراعظم سید یوسف رضا گیلانی نے تمام اتحادی جماعتوں سے مشاورت مکمل کرلی ہے اور اب صدرِ پاکستان آصف علی زرداری جو حکمران پیپلز پارٹی کے شریک چیئر پرسن بھی ہیں، ان کی رہنمائی اور مشاورت سے نئی کابینہ تشکیل دیں گے۔
ان کے مطابق نئی کابینہ کی تشکیل دو مراحل میں مکمل ہوگی اور پہلے مرحلے میں پچیس سے تیس وزیر حلف لیں گے۔ مستعفی ہونے والے وزراء میں سے رحمان ملک، خورشید شاہ، سید نوید قمر، بابر اعوان، نذر محمد گوندل، مخدوم امین فہیم، راجہ پرویز اشرف، شاہ محمود قریشی اور احمد مختار کو دوبارہ کابینہ میں شامل کیا جا سکتا ہے۔
ادھر جمیعت علماء اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمٰن نے صدر آصف علی زرداری سے دوپہر کے کھانے پر ملاقات کی اور گول میز کانفرنس بلانے پر تبادلہ خیال کیا۔ مولانا فضل الرحمٰن کی جماعت حکومت کی اتحادی تھی لیکن کچھ ہفتے قبل وزیراعظم کی جانب سے ان کی جماعت کے ایک وزیر کو فارغ کیے جانے پر وہ حکومتی اتحاد سے علیحدہ ہوگئے تھے۔
modiryat urdu

Recent Posts

اسلامی ممالک کا ایک دوسرے کے سامنے صف آرا ہونے میں کوئی خیر یا فائدہ نہیں

شیخ الاسلام مولانا عبدالحمید نے 31 جولائی 2026ء کے خطبہ جمعہ میں مشرقِ وسطیٰ میں…

18 hours ago

“عدل و انصاف کی ترویج”، “متحرک معیشت”، اور “عوام کی رضامندی” حکومتوں کی بقا کا راستہ ہیں

"عدل و انصاف کی ترویج"، "متحرک معیشت"، اور "عوام کی رضامندی" حکومتوں کی بقا کا…

1 week ago

حقوق اللہ اور حقوق الناس کی پامالی تقویٰ اور اعتدال کے راستے سے نکلنے کے مترادف ہے

زاہدان میں 17 جولائی 2026 کو نماز جمعہ کے اجتماعات کے دوران شیخ الاسلام مولانا…

2 weeks ago

“مذاکرات اور بات چیت” ملک کو بچانے کا بہترین طریقہ ہے

"مذاکرات اور بات چیت" ملک کو بچانے کا بہترین طریقہ ہے

3 weeks ago

غزہ میں اسرائیلی حملے جاری، 9 سالہ بچی سمیت کم از کم 6 فلسطینی شہید

غزہ میں جنگ بندی کے باوجود اسرائیلی حملوں کا سلسلہ جاری ہے۔

3 weeks ago

اللہ تعالیٰ اور رسول اللہ ﷺ کی اطاعت سب سے بڑا جہاد ہے

شیخ الاسلام مولانا عبدالحمید نے زاہدان میں نماز جمعہ تین جولائی 2026ء کے خطبے کے…

4 weeks ago