اسلام آباد (اسٹاف رپورٹر / ایجنسیاں) وزیر مملکت پورٹس اینڈ شپنگ اور پیپلزپارٹی کے رہنما نبیل گبول وزارت سے مستعفی ہونے کے بعد روپوش ہوگئے ۔
نبیل گبول کے بنگلے میں ہوائی فائرنگ کے بعد پولیس نے ان کے گھر پر چھاپہ مارکر ان کے بعض گارڈز کو پوچھ گچھ کیلئے حراست میں لے لیا تاہم کراچی پولیس کے چیف نے ان کے گھر پر چھاپہ مارے جانے کی تردید کی ہے۔
میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ وزارت کے تمام اختیارات وفاقی وزیر بابرغوری کے پاس ہیں، عوامی مسائل کے حوالے سے صدر اور وزیراعظم کو بھی آگاہ کیا لیکن یقین دہانیوں کے باوجود عوامی مسائل حل نہیں ہوئے ، اس لئے استعفیٰ دیدیا،انہوں نے کہاکہ میں کراچی میں ہوں لیکن منظر عام پر نہیں آؤنگا، حکومت کی جانب سے فراہم کئے گئے سرکاری گارڈز واپس لے لئے گئے.
اطلاعات کے مطابق نبیل گبول کا نام ای سی ایل میں شامل کردیا گیا ہے، چاکیواڑہ میں نبیل گبول کے حق میں نوجوانوں نے مظاہرہ کیا اور بعض مقامات پر استعفے کی خوشی میں مٹھائیاں تقسیم کی گئیں اور مظاہرے بھی کئے گئے۔
تفصیلات کے مطابق بدھ کو استعفیٰ دینے سے قبل نبیل گبول نے کراچی سے وزیراعظم یوسف رضا گیلانی سے ٹیلی فون پر بات چیت کی اور انہیں اپنے فیصلے سے آگاہ کیا۔ وزیراعظم ہاؤس کے ذرائع نے تصدیق کی کہ نبیل گبول نے اپنا استعفیٰ بذریعہ فیکس وزیراعظم کو کراچی سے بھجوایا جو پرنسپل سیکرٹری خوشنود اختر لاشاری نے وزیراعظم کو پیش کردیا۔
وزیراعظم ہاؤس کے ترجمان نے اپنے بیان میں نبیل گبول کا استعفیٰ موصول ہونے کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ نبیل گبول ذاتی وجوہ کی بنا پر مستعفی ہوئے ہیں اور ان کا استعفیٰ وزیراعظم کو موصول ہوگیا ہے۔
دریں اثناء جیونیوز سے گفتگوکرتے ہوئے سردار نبیل گبول نے دعویٰ کیا ہے کہ پولیس نے ان کے مکان پر چھاپہ مارا ہے اور وہاں موجود 12سکیورٹی گارڈ کو حراست میں لے لیا ہے۔ان کے اہل خانہ نامعلوم مقام پر منتقل ہو گئے ہیں۔
اطلاعات کے مطابق ٹی پی او کلفٹن طارق دھاریجو نے پولیس کی بھاری نفری کے ساتھ خیابان اتحاد ڈیفنس میں واقع سردار نبیل گبول کے گھر پر چھاپہ مارا اور وہاں موجود گارڈ کو حراست میں لے لیا۔
انہوں نے جیو نیوز کے نمائندے افضل ندیم ڈوگر سے ٹیلی فون پر گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ ان کے گھر پر کمانڈو طرز کی کارروائی کی گئی اور 12سکیورٹی گارڈ کو اسلحہ و دیگر سامان سمیت حراست میں لے لیا گیا ہے۔
ذرائع کے مطابق نبیل گبول کے اپنے عہدے سے مستعفی ہونے کے بعد بدھ کی شب تھانہ درخشاں کی حدود ڈیفنس ہاؤسنگ اتھارٹی فیز V میں واقع ان کے بنگلے میں ہوائی فائرنگ کی اطلاعات پر پولیس نے ان کے بنگلے پر چھاپہ مارا اور ان کے متعدد پرائیوٹ گارڈز کو پوچھ گچھ کیلئے حراست میں لیکر ان کا اسلحہ بھی اپنی تحویل میں لے لیا جبکہ پویس ان کے بنگلے سے کمپیوٹر اور لیپ ٹاپ بھی اپنے ساتھ لے گئی تاہم سی سی پی او کراچی فیاض لغاری کا کہنا ہے کہ نبیل گبول کے گھر پر کوئی چھاپہ نہیں مارا گیا مگر چونکہ اب وہ وزیر نہیں رہے اس لئے ان سے سرکاری گارڈز واپس لے لئے گئے ہیں۔
ذرائع نے مزید بتایا کہ نبیل گبول کے ساتھ حفاظتی ڈیوٹی انجام دینے والے 4 سرکاری گارڈز علی رضا، اکرام (پاک شپنگ) ارشد علی (کے پی ٹی) اور امتیاز (پولیس) کو سابق وزیرمملکت کی سیکورٹی سے ہٹالیا گیا ہے۔جبکہ حامد میر نے نبیل گبول کے استعفیٰ پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ صدر آصف علی زرداری نبیل گبول سے کافی عرصے سے ناراض تھے اور اُن سے کہا تھا کہ آپ اپنے نام کے ساتھ سردار کا لفظ استعمال نہ کیا کریں کیونکہ پیپلزپارٹی میں کسی سردار کی گنجائش نہیں۔
نبیل گبول کے ایک بیان پر اے این پی کی قیادت بھی سخت ناراض ہوئی جس کی شکایت اُنہوں نے آصف زرداری سے کی تھی، کافی دِنوں سے نبیل گبول مشکلات کاشکار تھے اس سے قبل کہ اُنہیں نکالا جاتا اُنہوں نے خود ہی استعفیٰ دے دیا۔
علاوہ ازیں ڈی آئی جی نے نبیل گبول سے اُن کی وزارت کے دوران سخت لہجے میں بات کی تھی، نبیل گبول کو اُن کے دوستوں نے مشورہ دیا ہے کہ وہ زیر زمین چلے جائیں۔
نبیل گبول کو یہ بھی بتادیا گیا ہے کہ آئندہ آپ لیاری سے الیکشن نہیں لڑیں گے اور آئندہ الیکشن میں بلاول بھٹو زرداری کو اُن کی جگہ ٹکٹ دیا جائے گا۔ علاوہ ازیں یہ بھی کہا جارہا ہے کہ آئندہ دِنوں میں مزید وزراء کو بھی فارغ کیا جائے گا تاہم دیکھنا ہوگا کہ آنے والے دِنوں میں مزیدکتنے وزیر فارغ ہوں گے۔