بات آگے بڑھاتے ہوئے سرپرست ’’شورائے مدارس اہل سنت سیستان وبلوچستان‘‘ مولانا عبدالحمید نے مزید کہا جب بھی یہاں کوئی ناخوشگوار واقعہ پیش آتا ہے تو کچھ لوگوں کو ’’اصلاح مدارس اہل سنت ایکٹ‘‘ یاد آتا ہے۔ یہ عناصر در اصل شدت پسندوں کی کارروائیوں سے سیاسی فائدہ اٹھا نا چاہتے ہیں تا کہ ہمارے مدارس کو ’’اصلاح‘‘ کے خوش نما عنوان سے اپنے کنٹرول میں لے لیں۔
انہوں نے مزید کہا ہمارے مدارس اصلاح شدہ ہیں اور ہمیں حکومتی اصلاح کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔ نیز اہل سنت کے مدارس کی سرگرمیاں علمی وثقافتی شعبوں تک محدود ہیں۔ اینٹی شیعہ یا حکومت مخالف عناصر کے لیے ہمارے مدارس میں کوئی جگہ نہیں ہے۔
خطیب اہل سنت زاہدان نے تاکید کی سیستان وبلوچستان ایک انتہائی اہم اور حساس دور سے گزر رہا ہے۔ ہماری راہ اتحاد وبھائی چارہ کی تقویت تھی اور رہے گی۔ بدامنی بلوچ وغیربلوچ، شیعہ اور سنی سمیت سب کے لیے باعث تشویش ہے۔ حکام کو اس ناسور کے خاتمے کے لیے تدبیر ومشورے سے کام لینا چاہیے۔ مزید کشت وخون کا سد باب کرنا ہے تو سارے دانشور، شیعہ وسنی کی سرکردہ شخصیات اور حکام مل بیٹھ کر بدامنی کے واقعات کے پیچھے کار فرما اسباب وعوامل کا مطالعہ کریں۔ تدبیر ودوراندیشی ہی سے صوبے کو امن کا گہوارہ بنایا جاسکتا ہے۔
شیخ الاسلام مولانا عبدالحمید نے جمعہ بیس فروری کو زاہدان کی نماز جمعہ کے اجتماع…
جنوری کے واقعات کا کوئی جواز نہیں؛ حکام جواز پیش کرنے کے بجائے عوام سے…
ایرانی عوام نے سن 1979ء میں “انصاف” اور “بہتر زندگی” کے حصول کے لیے انقلاب…
جنگ روکنے کا بہترین راستہ: ایرانی قوم کے مطالبات کو تسلیم کیا جائے
ایران میں حالیہ احتجاجات میں ہلاکتوں کی بڑی تعداد نے ایران کے عوام اور دنیا…
حالیہ احتجاجات میں عوام کے قتلِ عام کی مذمت اور شہداء کے خاندانوں سے ہمدردی…