Categories: رپورٹس

ڈرون حملوں میں تیزی کیوں

رپورٹ (بی بی سی اردو ڈاٹ کام) پاکستان کے قبائلی علاقے شمالی وزیرستان میں حالیہ دنوں امریکی جاسوس طیاروں کے حملوں میں اضافے پر ماہرین کا کہنا ہے کہ ان علاقوں میں شدت پسندوں کے خلاف کارروائی کی ذمہ داری بظاہر امریکہ نے اب خود سنبھال لی ہے۔

گزشتہ کئی برسوں کے مقابلے میں رواں سال امریکی ڈرون حملوں میں نہ صرف اضافہ ہوا ہے بلکہ جاسوسی کے لیے کئی ڈرون دن رات فضاء میں موجود ہوتے ہیں۔
مبصرین کے خیال میں وزیرستان میں ڈرون حملوں میں اضافے کی ایک وجہ امریکہ میں ہونے والے وسط مدتی انتخابات ہیں جن سے پہلے امریکی انتظامیہ عوام کو دہشت گردی کے خلاف جنگ میں القاعدہ کے کسی اہم رہنما کی ہلاکت کی خبر سنانا چاہتی ہے۔
دوسرا یہ کہ پاکستانی فورسز نے شمالی وزیرستان میں حافظ گل بہادر گروپ کے مقامی طالبان اور افغان طالبان کمانڈر جلال الدین حقانی کے خلاف فوجی کارروائی نہیں کی ہے اس لیے امریکہ نے خود وہاں ان گروپوں کے خلاف کارروائی شروع کی ہے۔
فاٹا ریسرچ سینٹر کے سربراہ ڈاکٹر اشرف علی کا کہنا ہے کہ قبائلی علاقوں میں شدت پسندی کے خلاف کارروائی میں جتنے بھی اہم لوگ ہلاک ہوئے ہیں وہ ڈرون حملوں ہی میں ہلاک ہوئے ہیں۔
ان میں نیک محمد وزیر، حاجی عمر، بیت اللہ محسود، طاہر یلدیش، ابواللبی، ابو یازید، عبدلجبار، ابو عبدالرحمن اور زمرے جیسی اھم شخصیت شامل ہیں۔
ڈاکٹر اشرف علی کا کہنا ہے کہ امریکہ کو یہ معلوم ہوگیا ہے کہ شدت پسندوں کو جیتنا نقصان ڈرون حملوں سے پہنچ سکتا ہے وہ دوسرے طریقوں سے نہیں پہنچایا جا سکتا۔
انہوں نے کہا کہ امریکہ خود پاکستانی سرزمین پر زمینی کارروائی تو نہیں کرسکتا لیکن ڈرون حملوں کے ذریعے امریکہ اپنے لوگوں کو یہ باور کرانا چاہتا ہے کہ دہشت گردی کے خلاف امریکی جنگ کامیابی سے جاری ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ امریکہ کے لوگ صدر اوباما سے یہ پوچھتے ہیں کہ امریکہ نے آٹھ نو سال میں افغانستان میں کتنا مالی و جانی نقصان اُٹھایا ہے۔
ڈاکٹر اشرف علی کے مطابق امریکہ نے اب تک افغانستان میں تین سو اڑتیس ارب ڈالر خرچ کیے ہیں اور اخراجات ابھی جاری ہیں۔
’ ڈرون حملوں میں اضافے کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہا کہ امریکہ چاہتا ہے کہ طالبان کو مذاکرات کی میز پر آنے پر مجبور کیا جائے‘۔
افغانستان میں پاکستان کے سابق سفیر رُستم شاہ مہمند نے کہا کہ امریکہ کے لیے میدان صاف ہے اور پاکستان کی حکومت کی طرف سے مکمل تعاون ہے۔
ان کے مطابق پاکستان سے ڈرون اڑتے ہیں اور حملے کرتے ہیں۔
ان کا کہنا ہے کہ پاکستان نے شمالی وزیرستان میں حافظ گل بہادر اور جلال الدین حقانی کے خلاف فوجی آپریشن کی بات نہیں مانی کیونکہ حافظ گل بہادر گروپ کے جنگجو پاکستانی فورسز پر حملہ آور نہیں ہوتے تو پاکستان نے ان کے خلاف کاروائی بھی نہیں کی اس لیے امریکہ نے یہ اپنے ذمے لے لیا ہے۔
رستم شاہ مہمند کا کہنا تھا کہ امریکہ سمجھتا ہے کہ قبائلی علاقوں میں جتنے بھی لوگ امریکہ کے خلاف ہیں وہ جنوبی و شمالی وزیرستان میں اکھٹے ہو رہے ہیں۔
ان کے مطابق اورکزئی ایجنسی کو صاف کیا گیا ہے جب کہ مہمند، باجوڑ اور کرم ایجنسی میں کارروائی جاری ہے۔ اس لیے صرف جنوبی و شمالی وزیرستان وہ علاقے بچے ہیں جہاں شدت پسندوں کو پناہ مل سکتی ہے۔ امریکہ کی توجہ بھی اب جنوبی و شمالی وزیرستان پر ہی ہے۔
بعض مبصرین کے مطابق مستقبل میں بھی ان حملوں کا رکنا ممکن نظر نہیں آتا کیونکہ پاکستان نے ان حملوں کے خلاف خاموشی اختیار کر کے ایک طرح سے اپنی رضامندی ظاہر کی ہے۔
modiryat urdu

Recent Posts

ایرانی عوام شدید ترین مہنگائی کا سامنا کر رہے ہیں؛ حکومت، پارلیمان اور نظامِ حاکمیت عوام کے معاشی حالات پر توجہ دیں

ایرانی عوام شدید ترین مہنگائی کا سامنا کر رہے ہیں؛ حکومت، پارلیمان اور نظامِ حاکمیت…

2 days ago

خراسان کے اہلِ سنت کا بارہواں فقہی اجلاس منعقد ہوا

خراسان کے اہلِ سنت کا بارہواں فقہی مشاورتی اجلاس جمعرات کی صبح، 22 اکتوبر 2026ء…

2 days ago

حجاب اور اسرائیل کے معاملے پر اختلافات، ترکیہ آذربائیجان کے درمیان بڑھتی دوریاں

ترکیہ اور آذربائیجان کے درمیان دیرینہ دوستانہ تعلقات میں تناؤ بڑھنے لگا ہے۔

6 days ago

فرانس میں مہنگائی کے خلاف پرتشدد احتجاج جاری، وزیراعظم کی کرفیو لگانے کی تجویز

فرانس کے وزیرِاعظم سیباستیان لیکورنو نے پیر کے روز مختلف علاقوں میں محدود پیمانے پر…

6 days ago

خطے میں کشیدگی؛ فیلڈ مارشل اہم دورے پر تہران پہنچ گئے

فیلڈ مارشل سید عاصم منیر اہم دورے پر ایرانی دارالحکومت تہران پہنچ گئے۔

6 days ago

جمہوریہ آذربائیجان کے اسکولوں میں حجاب پر پابندی جمہوریت کے اصولوں کے خلاف ہے؛ صدرِ آذربائیجان اپنا حکم واپس لیں

جمہوریہ آذربائیجان کے اسکولوں میں حجاب پر پابندی جمہوریت کے اصولوں کے خلاف ہے؛ صدرِ…

1 week ago